اسپیس42 کے مزید تین سیٹلائٹس فعال، متحدہ عرب امارات کی زمینی مشاہداتی صلاحیتوں میں اضافہ

ابوظہبی، 9 جون، 2026 (وام) ۔۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی خلائی ٹیکنالوجی کمپنی اسپیس42 نے اعلان کیا ہے کہ اس کے فورسائٹ-3، فورسائٹ-4 اور فورسائٹ-5 سیٹلائٹس مکمل طور پر فعال ہو گئے ہیں، جس سے فورسائٹ ارتھ آبزرویشن (EO) سیٹلائٹ نظام مزید مضبوط ہو گیا ہے۔

ان سیٹلائٹس کی شمولیت کے بعد فورسائٹ نظام میں سنتھیٹک اپرچر ریڈار کے پانچ سیٹلائٹس شامل ہو گئے ہیں، جو مسلسل ڈیٹا جمع کرنے اور جغرافیائی معلومات پر مبنی فیصلہ سازی کے لیے اعلیٰ معیار کی معلومات فراہم کریں گے۔

یہ تینوں سیٹلائٹس فن لینڈ کی کمپنی آئی سی آئی (ICEYE) کے تعاون سے تیار کیے گئے ہیں۔ اس شراکت داری کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، ضروری صلاحیتوں تک پائیدار رسائی اور سپلائی چین کو مقامی سطح پر فروغ دینا ہے۔

اس منصوبے کے تحت سیٹلائٹس کی تنصیب اور آزمائشی مراحل ابوظہبی میں اسپیس42 کے اسپیس سسٹمز اسمبلی، انٹیگریشن اینڈ ٹیسٹنگ (AIT) مرکز میں مکمل کیے گئے۔

اسپیس42 میں اسمارٹ سلوشنز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حسن الحسنی نے کہا کہ فورسائٹ-3، 4 اور 5 کی فعالیت سے دنیا بھر کی حکومتوں، مختلف شعبوں اور شراکت داروں کو تیز رفتار اور زیادہ مؤثر زمینی مشاہداتی خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔ حسن الحسنی کے مطابق آئی سی آئی کے ساتھ تعاون اور ابوظہبی میں اسپیس42 کی تنصیبات کی کامیاب کارکردگی نے قومی صلاحیتوں کو عالمی معیار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فورسائٹ سیٹلائٹ نظام کمپنی کی اس حکمت عملی کو بھی تقویت دیتا ہے جس کے تحت وہ اعلیٰ معیار کے جغرافیائی ڈیٹا کی فراہمی میں ترجیحی شراکت دار بننا چاہتی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کی خلائی صنعت میں عالمی حیثیت کو مزید مضبوط بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

فورسائٹ-3، 4 اور 5 کو کم بلندی والے زمینی مدار (Low Earth Orbit) میں ایسے زاویے پر بھیجا گیا ہے جس سے ان کی نگرانی کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا کے ان اہم خطوں کی مؤثر نگرانی ممکن ہوگی جہاں عالمی آبادی کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ آباد ہے۔

فورسائٹ سیٹلائٹ نظام سے حاصل ہونے والی ریڈار تصاویر اسپیس42 کے مصنوعی ذہانت پر مبنی جغرافیائی تجزیاتی پلیٹ فارم جی آئی کیو (GIQ) کو فراہم کی جاتی ہیں، جو خام ڈیٹا کو چند منٹوں میں قابلِ عمل معلومات میں تبدیل کر دیتا ہے۔ مختلف مدارات میں کام کرنے کی بدولت یہ نظام دن اور رات کے ہر وقت یکساں کارکردگی برقرار رکھتا ہے۔

یہ نظام 25 سینٹی میٹر تک واضح تصاویر اور ہر قسم کے موسمی حالات میں نگرانی کی صلاحیت فراہم کرتا ہے، جس سے زمین پر معمولی تبدیلیوں کی بھی درست نشاندہی ممکن ہوتی ہے۔ کمپنی کے مطابق جی آئی کیو پلیٹ فارم ہنگامی حالات میں ردعمل کا وقت 90 فیصد تک کم، پیشگی مرمت کے اخراجات 30 فیصد تک کم اور آپریشنل غیر مؤثریت 25 فیصد تک کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

دنیا بھر میں حکومتیں اور صنعتی ادارے خطرات کے انتظام، آپریشنز میں بہتری اور موسمیاتی و سکیورٹی اہداف کے حصول کے لیے جغرافیائی معلومات پر بڑھتا ہوا انحصار کر رہے ہیں، جس کے باعث ارتھ آبزرویشن خدمات کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

تخمینوں کے مطابق 2030 تک ارتھ آبزرویشن سے حاصل ہونے والی معلومات عالمی معیشت میں 700 ارب ڈالر سے زائد کی اضافی قدر پیدا کریں گی اور مختلف شعبوں میں کاربن اخراج میں کمی میں بھی معاون ثابت ہوں گی۔

متحدہ عرب امارات اپنی نیشنل اسپیس اسٹریٹجی 2030 اور مقامی انفراسٹرکچر، مصنوعی ذہانت اور مقامی مینوفیکچرنگ میں سرمایہ کاری کے ذریعے جدید زمینی مشاہداتی صلاحیتوں کے عالمی فراہم کنندہ کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط بنا رہا ہے۔ اسپیس42 کے فورسائٹ سیٹلائٹ نظام کی توسیع اسی قومی وژن کا حصہ ہے، جو خلائی ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت پر مبنی تجزیات کو یکجا کرتی ہے۔