دبئی، 9 جون، 2026 (وام) ۔۔ عالمی ڈیجیٹل ادائیگیوں کی کمپنی ویزا نے متحدہ عرب امارات میں اپنی سالانہ "اسٹے سیکیور" رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ڈیجیٹل تجارت اور آن لائن فراڈ کے حوالے سے صارفین کی آگاہی اور رویوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ویک فیلڈ ریسرچ کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی خریداری اور سوشل کامرس تیزی سے صارفین کے رویوں میں تبدیلی لا رہے ہیں، تاہم اعتماد اور تحفظ سے متعلق توقعات بدستور اہمیت رکھتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں 85 فیصد صارفین خریداری کے دوران مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹولز استعمال کر چکے ہیں۔ ان میں 60 فیصد صارفین مصنوعات کے جائزے اور درجہ بندی جانچنے، 59 فیصد قیمتوں کا موازنہ کرنے اور 55 فیصد تحائف کے لیے تجاویز حاصل کرنے کے لیے اے آئی سے مدد لیتے ہیں۔
ویزا کے مطابق 93 فیصد صارفین کا ماننا ہے کہ مصنوعی ذہانت سمیت نئی ٹیکنالوجیز نے آن لائن خریداری کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز اور آسان بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ 60 فیصد صارفین آن لائن خریداری کے دوران نئی برانڈز اور ریٹیلرز سے متعارف ہوتے ہیں۔
تاہم صارفین اب بھی مصنوعی ذہانت کے ذریعے براہِ راست لین دین مکمل کرانے کے حوالے سے محتاط رویہ رکھتے ہیں۔ صرف 32 فیصد افراد ایسے اے آئی سسٹمز پر اعتماد کرتے ہیں جو ان کی جانب سے خریداری کا عمل مکمل کریں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی تجارت میں صارفین کا اعتماد حاصل کرنا ایک اہم چیلنج ہے۔
رپورٹ کے مطابق اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ صارفین اسے فراڈ سے تحفظ کا مؤثر ذریعہ بھی سمجھتے ہیں۔ 57 فیصد افراد کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت نے دھوکہ دہی کی شناخت کو آسان بنا دیا ہے، جبکہ 85 فیصد کا ماننا ہے کہ مستقبل میں صارفین کو فراڈ سے بچانے میں اے آئی کلیدی کردار ادا کرے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے خریداری بھی عام ہوتی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 69 فیصد صارفین سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے براہِ راست مصنوعات خرید چکے ہیں۔ تاہم ان نئے تجارتی ذرائع کے ساتھ فراڈ کے خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ 12 ماہ کے دوران 46 فیصد صارفین کسی نہ کسی مالیاتی دھوکہ دہی کا شکار ہوئے، جبکہ متاثرہ افراد میں سے 38 فیصد نے بتایا کہ یہ فراڈ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پیش آیا۔
رپورٹ میں بچوں کو درپیش آن لائن خطرات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ 80 فیصد صارفین کا کہنا ہے کہ ان کے اردگرد موجود بچے آن لائن دھوکہ دہی کی نشاندہی کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں، جبکہ 67 فیصد افراد نے کسی بچے کو آن لائن گیمنگ یا خریداری کے دوران فراڈ کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔
یہ تشویش اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب بچوں کی ڈیجیٹل مالیاتی خدمات تک رسائی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات میں 33 فیصد والدین نے بتایا کہ ان کے بچوں کو موبائل ادائیگی ایپس یا ڈیجیٹل والٹس تک رسائی حاصل ہے۔
آن لائن خریداری کے دوران فراڈ سے تحفظ کے حوالے سے صارفین زیادہ ذمہ داری مالیاتی اداروں اور حکومتی اداروں پر عائد کرتے ہیں۔ 36 فیصد صارفین کے مطابق بینک اور مالیاتی ادارے بنیادی طور پر ذمہ دار ہیں، جبکہ اتنے ہی افراد حکومت اور نگران اداروں کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ 34 فیصد ادائیگی فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں، جبکہ صرف 19 فیصد کا خیال ہے کہ اس کی بنیادی ذمہ داری خود صارفین پر عائد ہوتی ہے۔
صارفین مزید فعال حفاظتی اقدامات بھی چاہتے ہیں۔ 60 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ اگر مشکوک سرگرمی کی صورت میں انہیں بینک یا ادائیگی ایپ کی جانب سے فوری اطلاع موصول ہو تو وہ زیادہ محفوظ محسوس کریں گے، جبکہ 33 فیصد صارفین خریداری کے وقت کسی معروف اور قابلِ اعتماد لوگو کی موجودگی کو اعتماد کا باعث سمجھتے ہیں۔
ویزا میں خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے لیے رسک کے سربراہ دبیہ جیوتی سین نے کہا کہ آن لائن خریداری اور سوشل کامرس میں اضافے کے ساتھ فراڈ اور دھوکہ دہی کے طریقے بھی زیادہ پیچیدہ ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق صارفین فراڈ سے تحفظ کو مشترکہ ذمہ داری سمجھتے ہیں، تاہم وہ توقع رکھتے ہیں کہ بینک اور ادائیگی فراہم کرنے والے ادارے اس سلسلے میں قائدانہ کردار ادا کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تجارت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باوجود صارفین اے آئی کی سہولتوں کو تو قبول کر رہے ہیں، لیکن خریداری کا مکمل اختیار مصنوعی ذہانت کو دینے کے حوالے سے اب بھی محتاط ہیں۔ ان کے مطابق ویزا انٹیلی جنٹ کامرس کے ذریعے کمپنی اعتماد، کنٹرول اور تحفظ پر مبنی نئی تجارتی خدمات متعارف کرا رہی ہے۔