'تہذیبوں کے درمیان مکالمے کا عالمی دن' مناتے ہوئے متحدہ عرب امارات نے ثقافتی ہم آہنگی اور رواداری کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا

ابوظہبی، 10 جون، 2026 (وام) ۔۔ متحدہ عرب امارات نے بدھ کے روز 'تہذیبوں کے درمیان مکالمے کا عالمی دن' منایا، جو ہر سال 10 جون کو منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر مختلف ثقافتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے اور عالمی امن و رواداری کے فروغ میں امارات کے نمایاں کردار کو اجاگر کیا گیا۔

متحدہ عرب امارات تقریباً 200 مختلف قومیتوں کے افراد کا مسکن ہے، جہاں مختلف نسلی اور مذہبی پس منظر رکھنے والے لوگ باہمی احترام، قانون کی حکمرانی اور مساوی مواقع کی بنیاد پر ایک ہم آہنگ معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ ماحول جامع قانون سازی، سماجی پالیسیوں اور تعلیمی پروگراموں پر مبنی دیرینہ قومی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

اسی عزم کے تحت ابوظہبی میں 5 جون کو تیسری بین الاقوامی کانفرنس برائے مکالمہ بین تہذیب و رواداری منعقد ہوئی، جس میں 120 سے زائد ممالک سے 100 سے زیادہ مقررین اور 4,500 شرکاء نے شرکت کی۔

متحدہ عرب امارات رواداری اور بقائے باہمی کو ادارہ جاتی شکل دینے میں عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے وزارتِ رواداری و بقائے باہمی قائم کی گئی، جو معاشرے میں کشادگی اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے۔

اس سلسلے میں متعدد قومی اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں، جن میں قومی میلہ برائے رواداری اور ابوظہبی میں قائم ابراہیمی فیملی ہاؤس شامل ہیں، جو تینوں ابراہیمی مذاہب کے درمیان مکالمے اور باہمی افہام و تفہیم کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

ابوظہبی نے فروری 2019 میں ایک تاریخی موقع کی میزبانی بھی کی، جب جامعہ الازہر کے امامِ اعظم ڈاکٹر احمد الطیب اور پوپ فرانسس نے یہاں انسانی اخوت کی دستاویز پر دستخط کیے تھے۔

اقوام متحدہ کی جانب سے سراہا جانے والا یہ تاریخی دستاویز بین المذاہب مکالمے اور بقائے باہمی کے حوالے سے آج بھی عالمی سطح پر ایک اہم حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر متحدہ عرب امارات نے ثقافتی اور سفارتی مکالمے کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو بنایا ہوا ہے۔ ملک اقوام متحدہ کی تہذیبوں کا اتحاد (UNAOC) اور یونیسکو سمیت مختلف عالمی فورمز میں فعال کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ دنیا بھر میں انسانی ہمدردی اور ثقافتی اقدامات کی حمایت اور سہولت کاری بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔