متحدہ عرب امارات کا افریقہ میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے عالمی ادارۂ صحت کی کوششوں کی حمایت کا اعلان

ابوظہبی، 12 جون، 2026 (وام) -- صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی ہدایات کے تحت متحدہ عرب امارات نے افریقہ میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یہ معاونت یو اے ای ایڈ ایجنسی کے ذریعے فراہم کی گئی ہے۔

اس موقع پر وزیر مملکت شیخ شخبوط بن نہیان النہیان نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنی انسانی ہمدردی کی پالیسی اور عالمی ذمہ داری کے تحت بحرانوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی فوری امداد کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو اے ای دنیا کے کسی بھی حصے میں انسانیت کے لیے خطرہ بننے والی بیماریوں اور وباؤں کے خلاف جدوجہد میں اپنا تعاون جاری رکھے گا اور اس سلسلے میں حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں اور متعلقہ علاقائی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹس اور اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بُنڈی بُگیو سرحد پار ایبولا وائرس کی قسم تیزی سے پھیل رہی ہے، جس سے اس وبا کے مختلف عمر کے افراد تک پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عالمی کوششوں میں مزید اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات مختلف حکومتوں اور اقوام متحدہ کے اداروں کے تعاون سے اس مقصد کے حصول کے لیے کام کر رہا ہے۔

شیخ شخبوط بن نہیان کے مطابق متحدہ عرب امارات متاثرہ آبادیوں کو صحت کے شعبے میں مختلف نوعیت کی معاونت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں طبی امداد، منظور شدہ ویکسینز اور ضروری ادویات کی فراہمی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو اے ای بین الاقوامی اور مقامی تنظیموں کے ساتھ مل کر علاج کے مخصوص مراکز میں بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسز نے حال ہی میں خبردار کیا تھا کہ جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی وبا اب بھی قابو سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کے رابطوں کی نشاندہی اور نگرانی میں مشکلات سمیت کئی چیلنجز درپیش ہیں، جبکہ وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کم از کم 90 فیصد متاثرہ افراد کو مؤثر طور پر الگ تھلگ رکھنا ضروری ہے۔