ابوظہبی، 15 جون، 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات، یورپی یونین اور دنیا کے 80 سے زائد ممالک نے متحدہ عرب امارات کے براکہ نیوکلیئر توانائی پلانٹ کے قریب ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات، ارجنٹینا، آرمینیا، آسٹریلیا، آسٹریا، بحرین، بیلجیم، بلغاریہ، کینیڈا، چلی، کولمبیا، کوموروس، کوسٹا ریکا، کوٹ ڈی آئیوری، کروشیا، قبرص، چیکیا، ڈنمارک، مصر، ایکواڈور، ایسٹونیا، فن لینڈ، فرانس، جارجیا، جرمنی، یونان، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، ہنگری، آئرلینڈ، اٹلی، جاپان، اردن، قازقستان، کویت، لٹویا، لبنان، لیبیا، لیختن شتائن، لتھوانیا، لکسمبرگ، مالٹا، مارشل جزائر، ماریشس، مالدووا، مراکش، نیدرلینڈز، نیوزی لینڈ، ناروے، پاکستان، پلاؤ، پیراگوئے، پیرو، فلپائن، پولینڈ، پرتگال، قطر، جمہوریہ کوریا، رومانیہ، سینٹ ونسنٹ اینڈ گریناڈائنز، سان مارینو، سعودی عرب، سربیا، سیشلز، سنگاپور، سلوواکیہ، سلووینیا، اسپین، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، شام، ٹونگا، ترکیہ، یوکرین، برطانیہ، امریکا، یوراگوئے، ویتنام، یمن اور یورپی یونین نے ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔
اعلامیے میں 17 مئی 2026 کو عراق میں سرگرم مسلح گروہوں کی جانب سے براکہ نیوکلیئر توانائی پلانٹ کے اندرونی حفاظتی حصار سے باہر واقع برقی تنصیبات پر کیے گئے ڈرون حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔
اعلامیے کے مطابق یہ حملہ بین الاقوامی قانون، بشمول اقوام متحدہ کے منشور، کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ حملے کے نتیجے میں شہریوں کی جانوں اور تنصیبات کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے تھے، جبکہ اس کے سرحد پار تابکاری، ماحولیاتی اور انسانی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا بھی خدشہ تھا۔
دستخط کنندگان نے اس خطرناک پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات کے خلاف تمام حملے فوری اور مستقل طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خاص طور پر پُرامن مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں کی مذمت کی۔
اعلامیے میں تمام ریاستوں پر زور دیا گیا کہ وہ جارحانہ اقدامات سے گریز کریں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی سرزمین کسی غیر ریاستی گروہ کی جانب سے دوسرے ممالک پر حملوں کے لیے استعمال نہ ہو۔
مشترکہ اعلامیے میں اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کے مطابق متحدہ عرب امارات کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے بھرپور حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
اعلامیے میں بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو حملے کے نتائج، حفاظتی اقدامات اور براکہ پلانٹ کے اطراف تابکاری کی معمول کی سطح کے بارے میں بروقت اور شفاف معلومات فراہم کرنے پر متحدہ عرب امارات کے متعلقہ حکام کو سراہا گیا۔
دستخط کنندگان نے براکہ نیوکلیئر توانائی پلانٹ کے محفوظ، پُرامن اور مؤثر آپریشن کو یقینی بنانے کے لیے اماراتی حکام کی مسلسل کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور آئی اے ای اے اور متحدہ عرب امارات کے متعلقہ اداروں کے درمیان جاری تعاون کا خیرمقدم کیا۔
اعلامیے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ براکہ نیوکلیئر توانائی پلانٹ کو اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیارات کے مطابق ڈیزائن، تعمیر اور چلایا جا رہا ہے۔ یہ پلانٹ متحدہ عرب امارات کے وفاقی ادارہ برائے نیوکلیئر ضابطہ کاری کی نگرانی اور آئی اے ای اے کے حفاظتی معیارات کے مطابق کام کر رہا ہے۔
اعلامیے میں آئی اے ای اے اور اس کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے رکن ممالک میں جوہری تحفظ، جوہری سلامتی اور حفاظتی نگرانی سے متعلق پیش رفت کی مسلسل نگرانی کی کوششوں کی بھی حمایت کی گئی۔
دستخط کنندگان نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جو پُرامن مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے نیوکلیئر بجلی گھروں اور متعلقہ تنصیبات کے تحفظ اور سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتا ہو۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ براکہ نیوکلیئر توانائی پلانٹ کے قریب بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والا یہ ڈرون حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پُرامن مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے جوہری بنیادی ڈھانچے کو خطرات اور دشمنانہ کارروائیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں نیوکلیئر بجلی گھروں اور ان سے متعلقہ تنصیبات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، جسمانی تحفظ کے اقدامات میں اضافے، ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی بڑھانے پر زور دیا گیا۔