بیجنگ، 18 جون، 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات نے آج 32ویں بیجنگ بین الاقوامی کتاب میلے میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے اپنی شرکت کا آغاز کیا۔ یہ میلہ 17 سے 21 جون تک چین کے دارالحکومت بیجنگ میں واقع چائنا نیشنل کنونشن سینٹر میں جاری ہے۔
یہ شرکت متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے اور وزارتِ ثقافت کے اشتراک سے "معاشرہ اور لوگ" کے عنوان کے تحت منعقد کی جا رہی ہے، جو ثقافتی تجربے کے مرکز میں لوگوں کو رکھنے کے اماراتی وژن اور متحدہ عرب امارات و عوامی جمہوریہ چین کے درمیان جامع تزویراتی شراکت داری کی عکاسی کرتا ہے۔
چین میں متحدہ عرب امارات کے سفیر حسین بن ابراہیم الحمادی نے وزارتِ ثقافت کے انڈر سیکریٹری مبارک الناخی اور اماراتی و چینی حکام کی موجودگی میں متحدہ عرب امارات کے مرکزی پویلین "یو اے ای ہاؤس" کا افتتاح کیا۔
وزیرِ ثقافت شیخ سالم بن خالد القاسمی نے یو اے ای پویلین کے دورے کے دوران کہا کہ اس وقت علم ایک تزویراتی وسیلہ اور ترقی و مسابقت کا اہم محرک بن چکا ہے، ایسے میں میلے میں اماراتی شرکت خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایک ایسے جامع علمی اور ثقافتی نظام کی تشکیل کے لیے پُرعزم ہے جو تخلیقی صلاحیتوں اور جدت طرازی کو فروغ دے اور علاقائی و عالمی سطح پر علمی و ثقافتی مواد کی تیاری اور اشاعت کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔
شیخ سالم بن خالد القاسمی کے مطابق کتاب میلے اب صرف مطبوعات کی نمائش تک محدود نہیں رہے بلکہ خیالات کے تبادلے اور علمی و اشاعتی شعبوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کے عالمی مراکز بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیجنگ بین الاقوامی کتاب میلے میں متحدہ عرب امارات کی شرکت ملک کے جدید ثقافتی اور علمی تجربے کو اجاگر کرنے، قومی شناخت اور اس کی رواداری، کشادگی اور بقائے باہمی کی اقدار کو پیش کرنے اور ثقافت و علم پر عالمی مکالمے میں اماراتی کردار کو مضبوط بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
وزیرِ ثقافت نے مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنی ثقافتی پالیسیوں اور اقدامات کو مسلسل ترقی دے رہا ہے تاکہ ثقافت اور علم کو قومی ترقی کی ترجیحات میں مزید مستحکم مقام حاصل ہو، ثقافتی شعبے کی قومی معیشت میں شراکت بڑھے، معیارِ زندگی بہتر ہو اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل پائے جو جدت اور علم کی تخلیق کی صلاحیت رکھتا ہو۔
دورے کے دوران انہوں نے یو اے ای پویلین کے مختلف حصوں اور شریک ثقافتی و تعلیمی اداروں کی جانب سے پیش کی گئی نمائشوں کا جائزہ لیا، جبکہ قومی اشاعتوں اور ثقافتی اقدامات کے بارے میں بھی بریفنگ حاصل کی۔
اس موقع پر سفیر حسین بن ابراہیم الحمادی نے کہا کہ بیجنگ بین الاقوامی کتاب میلے میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے متحدہ عرب امارات کی شرکت دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ہے، جو مختلف شعبوں میں مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ شرکت ثقافت اور علم کے ذریعے اقوام کو قریب لانے اور انسانی و تخلیقی تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے دونوں ممالک کے مشترکہ یقین کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ متحدہ عرب امارات کے عالمی ثقافتی کردار کو مضبوط بنانے اور مختلف تہذیبوں و ثقافتوں کے ساتھ فکری و ادبی تبادلوں کو فروغ دینے کے وژن کا بھی اظہار ہے۔
سفیر الحمادی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا مہمانِ خصوصی کے طور پر انتخاب حالیہ برسوں کے دوران بیجنگ میں اماراتی سفارت خانے اور چینی شراکت داروں کی مسلسل ثقافتی اور سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال کے دوران مشترکہ ثقافتی اور ادبی تقریبات کے انعقاد اور مکالمے و علمی تبادلے کو فروغ دینے والی متعدد سرگرمیوں نے چینی عوام میں اماراتی ثقافت کے تعارف کو وسعت دی اور دونوں ممالک کے ثقافتی اداروں کے درمیان تعاون کے نئے دروازے کھولے ہیں۔
سفیر حسین بن ابراہیم الحمادی نے اس بات پر زور دیا کہ متحدہ عرب امارات ثقافت، علم اور تخلیقی صلاحیتوں کو پائیدار ترقی اور مستقبل کی معیشت کے بنیادی ستون سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ثقافتی اور تخلیقی صنعتیں اب محض ثقافتی سرگرمی نہیں رہیں بلکہ معاشی اور سماجی ترقی، جدت طرازی اور علم کی تخلیق کے اہم ذرائع بن چکی ہیں۔ اسی تناظر میں متحدہ عرب امارات تخلیق کاروں، ناشروں اور مواد تیار کرنے والوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور خود کو تخلیقی صلاحیتوں، ثقافتی تبادلے اور تہذیبوں کے درمیان رابطے کے عالمی مرکز کے طور پر مزید مستحکم کر رہا ہے۔