پیرس، 18 جون، 2026 (وام) -- امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکراتی عمل کا فریم ورک طے کرنے والی ایک مفاہمتی یادداشت پر ورچوئل طور پر دستخط کیے ہیں۔
دونوں حکومتوں کی جانب سے جاری کردہ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے مطابق امریکا اور ایران 60 روز کے اندر ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کریں گے۔ فریقین کی باہمی رضامندی سے اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکے گی۔
مفاہمتی یادداشت میں کہا گیا ہے کہ ایران مذاکرات کے دوران یورینیم کی افزودگی کی سطح میں کمی کرے گا، جبکہ اس کے بدلے امریکا ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کو معطل کرے گا اور حتمی معاہدہ طے پانے کی صورت میں پابندیاں مکمل طور پر ختم کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔
دستاویز کے مطابق امریکا ایران کے خلاف عائد بحری ناکہ بندی اور سمندری نقل و حرکت میں حائل رکاوٹوں کو مرحلہ وار ختم کرے گا، جبکہ 30 روز کے اندر بحری ناکہ بندی مکمل طور پر اٹھا لی جائے گی۔
مفاہمتی یادداشت میں ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور اپنی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے ایک حصے کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔
معاہدے کے تحت امریکا اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کی تعمیرِ نو اور اقتصادی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر مالیت کے ایک جامع اور باہمی طور پر متفقہ منصوبے کی تیاری پر بھی کام کرے گا۔
مفاہمتی یادداشت کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور خطے میں استحکام کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دونوں فریقوں کی جانب سے آئندہ ہفتوں میں مزید مذاکرات متوقع ہیں۔