ابوظہبی، 18 جون، 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات، اردن، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، پاکستان، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل اور بڑھتی ہوئی پرتشدد کارروائیوں کی شدید مذمت کی ہے، جن میں حالیہ دنوں میں رام اللہ کے شمال میں واقع جِلجِلیہ گاؤں کی جامع مسجد اور مزارع النوبانی گاؤں کی الفاروق مسجد پر حملے بھی شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ حملے عبادت گاہوں اور مذہبی مقامات کے تقدس کی صریح خلاف ورزی ہیں اور بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں سے متصادم ہیں۔
انہوں نے اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے کیے جانے والے ان قابلِ مذمت حملوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے جاری غیر قانونی اقدامات کی بھی مذمت کی، جو عدم استحکام، تشدد اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور امن کے قیام کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے ان حملوں کی ذمہ داری قابض طاقت کی حیثیت سے اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے اور ان واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہییں۔
مشترکہ بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اسرائیل کو مقبوضہ مغربی کنارے میں خطرناک کشیدگی بڑھانے سے روکے، غیر قانونی اقدامات کا خاتمہ کرائے، آبادکاروں کے تشدد کو بند کرائے اور ان جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کو یقینی بنائے تاکہ انہیں استثنیٰ حاصل نہ ہو۔
وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی اور ان کے جائز اور ناقابلِ تنسیخ قومی حقوق کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، جن میں حقِ خود ارادیت اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی القدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام سرفہرست ہے۔
بیان میں اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور عرب امن منصوبے کی بنیاد پر دو ریاستی حل کے ذریعے منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔