نیروبی، 19 جون، 2026 (وام) -- افریقہ کے مختلف حصوں تک پھیلنے والی کانگو کی ایبولا وبا کے باعث ایک ماہ کے دوران 200 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ افریقہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (افریقہ سی ڈی سی) نے اسے اس مرحلے پر ایبولا کی تاریخ کی بدترین وباؤں میں سے ایک قرار دیا ہے۔
افریقہ سی ڈی سی کے مطابق گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں ایبولا کے کیسز میں 38 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور وبا مشرقی کانگو کے 32 صحتی زونز تک پھیل چکی ہے۔
ادارے کے حکام نے بتایا کہ اب تک 894 مصدقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں، جو سال 2000 میں یوگنڈا میں پھیلنے والی ایبولا وبا کے اسی مرحلے کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہیں۔ اس وقت یوگنڈا میں 281 مصدقہ کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
افریقہ سی ڈی سی کے طبی ماہر وبائیات ڈاکٹر وسام منقولہ نے کہا کہ متاثرہ علاقوں کے دور دراز ہونے، مالی وسائل اور طبی عملے کی کمی اور آبادیوں کی نقل مکانی کے باعث مریضوں سے رابطے میں آنے والے افراد کا سراغ لگانے کی کوششوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک صرف 4 ہزار افراد کی نشاندہی کی جا سکی ہے جن کا طبی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
افریقہ سی ڈی سی کے مطابق اب تک صرف 74 مریض بیماری سے صحت یاب ہو سکے ہیں۔
ڈاکٹر وسام منقولہ نے رابطے میں آنے والے افراد کی نگرانی میں مسلسل کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت صرف 4,112 افراد زیرِ نگرانی ہیں، جبکہ اندازاً 35 ہزار افراد ایسے ہیں جو متاثرہ مریضوں کے رابطے میں آئے تھے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ صحت کے حکام ابھی وبا کو قابو میں لانے سے کافی دور ہیں اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔