قاہرہ، 21 جون، 2026 (وام) -- مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں خطے کے تمام ممالک کی سلامتی اور استحکام کے تقاضوں کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
یہ مؤقف قاہرہ میں منعقدہ مشاورتی اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں سامنے آیا، جس میں مصر کے وزیر خارجہ، بین الاقوامی تعاون اور بیرون ملک مقیم مصری شہریوں کے امور کے وزیر بدر عبدالعاطی، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود اور ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے شرکت کی۔
وزرائے خارجہ نے 18 جون کو امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے کشیدگی میں کمی اور ایسے تنازع کے خاتمے کی جانب ایک مثبت پیش رفت قرار دیا، جو علاقائی سلامتی و استحکام، توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی بحری راستوں، عالمی سپلائی چینز اور تجارت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا تھا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مفاہمتی یادداشت کے بعد مذاکرات کے اگلے مرحلے کو جلد مکمل کرنا ضروری ہے تاکہ باقی ماندہ معاملات کے لیے ایک "پائیدار، قابلِ تصدیق اور باہمی طور پر قابلِ قبول حل" تک پہنچا جا سکے۔
وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ اس عمل میں خطے کے ممالک کے تحفظات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے، خصوصاً خلیجی عرب ممالک اور مشرقِ عرب (لیونٹ) کے امن و استحکام سے متعلق خدشات کو، تاکہ اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنایا جا سکے اور طویل المدتی علاقائی استحکام کو فروغ ملے۔
اجلاس میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ فلسطینی مسئلہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام کے قیام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
وزرائے خارجہ نے غزہ کی پٹی، مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس کی انسانی اور سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
مشترکہ بیان میں فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی القدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہے۔