لوسرن، 22 جون، 2026 (وام) -- اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت اعلیٰ سطحی مذاکرات کا پہلا دور سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں مکمل ہوا، جس میں اسلامی جمہوریہ ایران، ریاستہائے متحدہ امریکا اور ثالثی کردار ادا کرنے والے ممالک قطر اور پاکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔
قطر نیوز ایجنسی کے مطابق قطر اور پاکستان نے مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت کی روشنی میں فریقین نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا ہے جو ثالثی عمل کی سیاسی نگرانی کرے گی۔
بیان کے مطابق چیف مذاکرات کار باقاعدگی سے اس کمیٹی کو پیش رفت سے آگاہ کریں گے اور مختلف ورکنگ گروپس کی قیادت کریں گے۔ ان گروپس میں جوہری امور، پابندیوں سے متعلق معاملات، مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی اور تنازعات کے حل کا گروپ، اور دیگر متعلقہ شعبے شامل ہوں گے۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مفاہمتی یادداشت کی شق 5 میں مقررہ مدت کے دوران غلط فہمیوں اور ممکنہ واقعات سے بچنے کے لیے فریقین کے درمیان براہِ راست رابطے کا ایک نظام بھی قائم کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا ہے۔
بیان کے مطابق فریقین نے ایک 'ڈی کنفلیکشن سیل' کے قیام پر بھی اتفاق کیا ہے، جس میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ جمہوریہ لبنان بھی شامل ہوگا، جبکہ قطر اور پاکستان اس عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کریں گے۔
اس سیل کا مقصد مفاہمتی یادداشت کے تحت لبنان میں فوجی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق طے شدہ اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ کشیدگی یا تصادم کو روکنا ہے۔