عالمی دارالحکومتیں، 24 جون، 2026 (وام) -- یورپ حالیہ برسوں کی شدید ترین ابتدائی گرمی کی لہروں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے، جہاں جنوبی اور مغربی یورپ کے وسیع علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ حکام نے صحت سے متعلق انتباہات جاری کرتے ہوئے عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
فرانس کے وزیراعظم سیباستیان لیکورنو کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران شدید گرمی سے بچنے کی کوششوں کے دوران تقریباً 40 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
فرانسیسی وزیراعظم نے منگل کے روز بتایا کہ 18 جون سے اب تک 40 افراد ڈوب کر جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ان کے مطابق زیادہ تر متاثرین نوجوان تھے جو شدید گرمی سے نجات کے لیے غیر محفوظ اور غیر نگرانی شدہ آبی مقامات پر نہانے گئے تھے۔
یورپ بھر میں ایک غیر معمولی اور ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر برقرار ہے، جسے ماہرین ایک بڑے 'ہیٹ ڈوم' کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں، جس نے براعظم کے وسیع حصے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
متعدد بڑے شہروں میں درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ بعض علاقوں میں یہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی اوپر ریکارڈ کیا گیا۔ شدید موسمی حالات کے باعث کئی یورپی ممالک میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں اور ٹرین سروسز میں بھی وسیع پیمانے پر خلل پیدا ہوا ہے۔
فرانس کے قومی محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں اوسط یومیہ درجہ حرارت کی نئی ریکارڈ سطح دیکھی جا رہی ہے، جبکہ فرانس اور جرمنی میں گزشتہ ہفتے کے دوران متعدد افراد ڈوبنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔
فرانس میں شدید گرمی کے دوران ایک گاڑی سے دو بچوں کی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں، جس پر حکام نے عوام سے بچوں کو بند گاڑیوں میں تنہا نہ چھوڑنے کی اپیل کی ہے۔
اٹلی کی حکومت نے شہریوں کو دھوپ میں غیر ضروری وقت گزارنے اور سخت جسمانی سرگرمیوں سے گریز کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ برطانیہ کے محکمہ موسمیات نے بدھ سے شدید گرمی کے پیش نظر غیر معمولی "ریڈ الرٹ" جاری کر دیا ہے۔
فرانس اور اسپین سمیت مغربی یورپ کے کئی ممالک اس شدید گرمی کی لہر سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ماہرین موسمیات کے مطابق آئندہ دنوں میں بھی درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بلند رہنے کا امکان ہے۔