دبئی، 28 جون، 2026 (وام) -- دبئی نے کھیلوں کی معیشت کے عالمی مراکز میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم کی ہے، جہاں حکام کے مطابق ایک جامع حکمت عملی کے تحت کھیلوں کے شعبے کو اقتصادی ترقی کے اہم محرک کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں اضافہ، سرمایہ کاری، سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں کو تقویت دے رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں دبئی نے عالمی سطح کے کھیلوں کے مقابلوں اور ایونٹس کی میزبانی، جدید کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور سرمایہ کاری، سیاحت، ٹیکنالوجی اور اسپورٹس میڈیا پر مشتمل مربوط نظام تشکیل دے کر کھیلوں کو اقتصادی ترقی کا اہم ذریعہ بنایا ہے۔
دبئی اسپورٹس سیکٹر اسٹریٹجک پلان 2033 کے تحت حکومت کا ہدف ہے کہ کھیلوں کے شعبے کا سالانہ اقتصادی حصہ 10.17 ارب درہم سے بڑھا کر 2033 تک 18.3 ارب درہم تک پہنچایا جائے، جو موجودہ سطح کے مقابلے میں تقریباً 80 فیصد زیادہ ہوگا۔
اس منصوبے کے تحت بڑے کھیلوں کے مقابلوں میں سالانہ شائقین کی تعداد 16 لاکھ 70 ہزار سے بڑھا کر 41 لاکھ سے زائد کرنے اور آئندہ برسوں میں بڑے کھیلوں کے ایونٹس کی تعداد میں 250 فیصد تک اضافہ کرنے کا بھی ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
دبئی اکنامک ایجنڈا (D33) کے آغاز کے بعد کھیلوں کا شعبہ نئی معیشت کے اہم ستونوں میں شامل ہو چکا ہے۔ اس ترقی میں اسپورٹس ٹورازم، نشریاتی حقوق، تجارتی اسپانسرشپ، کھیلوں سے متعلق ڈیجیٹل مواد اور ڈیجیٹل معیشت کا نمایاں کردار ہے۔
دبئی ہر سال مختلف کھیلوں کے 400 سے زائد مقامی اور بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی کرتا ہے، جبکہ دنیا کے معروف کلبوں اور قومی ٹیموں کے تقریباً 100 تربیتی کیمپ بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ہوٹلنگ، سیاحت، ہوا بازی، ریٹیل اور خدمات کے شعبوں کو نمایاں اقتصادی فائدہ پہنچ رہا ہے۔
دبئی ڈیوٹی فری ٹینس چیمپئن شپ ان نمایاں مقابلوں میں شامل ہے، جس نے کئی برسوں سے دنیا کے صف اول کے ٹینس کھلاڑیوں کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔ ٹورنامنٹ کے ڈائریکٹر صلاح تہلک نے کہا کہ اس ایونٹ کی مسلسل کامیابی دبئی کی عالمی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی کی صلاحیت کا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق یہ مقابلے معیشت، سیاحت اور عالمی سطح پر دبئی کی تشہیر میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اسی طرح دبئی میراتھن بھی دنیا کی نمایاں میراتھن ریسوں میں شمار ہوتی ہے، جس میں ہر سال مختلف ممالک سے ہزاروں ایتھلیٹس شرکت کرتے ہیں۔ میراتھن کے جنرل کوآرڈینیٹر احمد الکمالی کے مطابق عالمی کھیلوں کے مقابلے سیاحت، سرمایہ کاری اور میڈیا کے ذریعے دبئی کی معیشت کو نمایاں فوائد پہنچاتے ہیں اور دبئی میراتھن اس کی کامیاب مثال ہے۔
حالیہ برسوں میں دبئی نے بین الاقوامی گالف، مکسڈ مارشل آرٹس، کرکٹ، دوڑ، سائیکلنگ اور بحری کھیلوں کے بڑے مقابلوں کی میزبانی بھی شروع کی ہے، جس سے مختلف شعبوں کے شائقین کو متوجہ کرنے اور اقتصادی سرگرمیوں میں تنوع پیدا کرنے میں مدد ملی ہے۔
کھیلوں میں وسیع عوامی دلچسپی سے فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی کے تحت دبئی باسکٹ بال منصوبے کا آغاز اور ٹیم کی یورپی 'ABA لیگ' میں شمولیت بھی دبئی کو کھیلوں میں سرمایہ کاری کے علاقائی اور عالمی مرکز کے طور پر مزید مستحکم کرنے کی اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
دبئی نے ای اسپورٹس کے شعبے میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا ہے، جو دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والے کھیلوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ شعبہ ڈیجیٹل معیشت، مواد کی تخلیق اور نوجوانوں کی شمولیت کے حوالے سے سرمایہ کاری کے وسیع مواقع فراہم کر رہا ہے۔
دبئی فیسٹیولز اینڈ ریٹیل اسٹیبلشمنٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد الخاجہ نے کہا کہ دبئی ای اسپورٹس اینڈ گیمز فیسٹیول جیسے ایونٹس اس شعبے کی تیز رفتار ترقی اور دبئی کی تخلیقی معیشت میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔
فٹبال کے شعبے میں بھی دبئی دنیا کے بہترین کلبوں اور قومی ٹیموں کے سرمائی تربیتی کیمپوں کے لیے پسندیدہ مقام بن چکا ہے، جہاں جدید کھیلوں کی سہولتیں اور عالمی معیار کی مہمان نوازی مختلف اقتصادی شعبوں کے لیے براہ راست اور بالواسطہ فوائد کا باعث بن رہی ہیں۔
دبئی، دبئی انٹرنیشنل اسپورٹس کانفرنس کی میزبانی کے ذریعے کھیلوں کے شعبے میں اپنی فکری اور سرمایہ کاری کی قیادت بھی مضبوط کر رہا ہے۔ یہ کانفرنس کھیلوں کی صنعت، سرمایہ کاری، جدت، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت جیسے موضوعات پر عالمی ماہرین اور فیصلہ سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے۔
بڑے بین الاقوامی کھیلوں کے مقابلے دبئی کی عالمی سافٹ پاور کو بھی تقویت دے رہے ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے شہر کے نمایاں مقامات، کھیلوں کے میدانوں اور دیگر سرگرمیوں کو بین الاقوامی ٹی وی چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر دنیا بھر میں کروڑوں ناظرین تک پہنچایا جاتا ہے۔