جنیوا، 29 جون، 2026 (وام) -- عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق 21 جون سے یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر کے باعث 1,300 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے بتایا کہ تقریباً 15 کروڑ افراد شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں جبکہ بجلی کی فراہمی کا نظام بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ادارۂ صحت رکن ممالک کے ساتھ مل کر ہنگامی تیاریوں اور صحت کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ شدید گرمی سے نمٹنے کے لیے صحت سے متعلق قومی ایکشن پلان پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کریں۔
جون کے وسط سے فرانس، اسپین، اٹلی اور برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ گرمی کی لہر اب بھی براعظم کے وسیع علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث شدید گرمی کی لہریں پہلے کے مقابلے میں زیادہ بار اور زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔