متحدہ عرب امارات کی شام پر اسرائیلی حملوں اور دراندازی کی شدید مذمت

ابوظہبی، 30 جون، 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات نے شام کے صوبوں قنیطرہ اور درعا میں اسرائیلی حملوں، شامی علاقوں میں دراندازی اور توپ خانے سے گولہ باری کی شدید مذمت کرتے ہوئے شام کی خودمختاری، سلامتی اور استحکام کی کسی بھی خلاف ورزی کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ شام کی سرزمین میں اسرائیل کی مسلسل دراندازی بین الاقوامی قانون اور 1974 کے شام-اسرائیل علیحدگی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس کی پابندی اسرائیل پر لازم ہے۔

وزارت نے شام کے استحکام، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے متحدہ عرب امارات کے غیرمتزلزل مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے شامی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات ایسے تمام اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا جن کا مقصد شامی عوام کی امن، سلامتی، باوقار زندگی، پُرامن بقائے باہمی اور ترقی سے متعلق خواہشات کو پورا کرنا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ شامی علاقوں پر بار بار ہونے والے حملوں کو فوری طور پر روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، کشیدگی میں اضافے کو روکے اور ایسے تمام اقدامات کا سدباب کرے جو خطے میں تناؤ بڑھانے اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا باعث بن سکتے ہیں۔