ابوظہبی، 30 جون، 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات اور یوکرین کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری کا معاہدہ (سیپا) یکم جولائی سے باضابطہ طور پر نافذ ہو گیا، جس کے ساتھ دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
اس معاہدے کا مقصد تجارت، سرمایہ کاری اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے، جس سے متحدہ عرب امارات کے ایک اہم یورپی منڈی کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور عالمی تجارتی مرکز کے طور پر اس کا کردار بھی مستحکم ہوگا۔
سیپا کے تحت مختلف اشیا اور خدمات پر عائد کسٹم ڈیوٹی ختم یا کم کی جائے گی، جس سے دونوں ممالک کی منڈیوں تک رسائی آسان ہوگی اور کاروباری سرگرمیوں کو عالمی سطح پر وسعت دینے میں مدد ملے گی۔ اس معاہدے سے نجی شعبے کے درمیان تعاون کو بھی فروغ ملے گا، جس سے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کو بین الاقوامی سطح پر اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے مواقع میسر آئیں گے۔
معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات سے یوکرین جانے والی 99 فیصد اشیا اور یوکرین سے متحدہ عرب امارات برآمد کی جانے والی 97 فیصد مصنوعات پر فوری طور پر کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی جائے گی۔ اندازوں کے مطابق 2031 تک یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 369 ملین امریکی ڈالر اور یوکرین کی جی ڈی پی میں 874 ملین امریکی ڈالر کا اضافہ کرے گا۔
2025 کے دوران متحدہ عرب امارات اور یوکرین کے درمیان غیر تیل تجارت کا حجم 346.8 ملین امریکی ڈالر رہا۔ اس معاہدے کا مقصد غیر تیل تجارت کو دوبارہ فروغ دینا ہے، جو 2021 میں 904.4 ملین امریکی ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں موجود وسیع امکانات کا اندازہ ہوتا ہے۔
وزیرِ مملکت برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور یوکرین کے درمیان سیپا دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ تجارت کو فروغ دینے، سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے اور مختلف اہم شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے، جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی اقتصادی حکمت عملیوں میں ہم آہنگی کے ذریعے تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی معاشی ماحول میں پائیدار اور مضبوط اقتصادی ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
متحدہ عرب امارات اپنی عالمی تجارتی شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے، اور یوکرین کے ساتھ یہ معاہدہ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اب تک متحدہ عرب امارات 37 جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے (سیپا) طے کر چکا ہے، جن میں سے 17 معاہدے نافذ ہو چکے ہیں۔