اسونسیون (پیراگوئے)، یکم جولائی، 2026 (وام) -- صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی جانب سے وزیر مملکت برائے غیرملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے جمہوریہ پیراگوئے کے دارالحکومت اسونسیون میں منعقدہ میرکوسور سربراہی اجلاس میں متحدہ عرب امارات کی نمائندگی کی، جس میں رکن اور شراکت دار ممالک کے سربراہانِ مملکت اور حکومت نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ثانی الزیودی نے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی جانب سے میرکوسور ممالک کے رہنماؤں کے لیے نیک تمناؤں اور ان کی عوام کی مسلسل ترقی و خوشحالی کے پیغام کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میرکوسور ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے اور ایسی اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے، جسے امارات مشترکہ اقتصادی مستقبل کی بنیاد تصور کرتا ہے۔
ڈاکٹر ثانی الزیودی نے کہا کہ دنیا اس وقت تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال سے گزر رہی ہے، جو عالمی معیشت کی نئی تشکیل کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال متحدہ عرب امارات اور میرکوسور ممالک کو باہمی مفادات اور مشترکہ مستقبل کے وژن کی بنیاد پر متوازن اور پائیدار اقتصادی شراکت داری قائم کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے جدید ٹیکنالوجیز، مستقبل کی صنعتوں، توانائی کے نئے ذرائع، انسانی صلاحیتوں اور علم میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری کو پائیدار اقتصادی ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ تجارت بدستور اقتصادی نمو، جدت اور معیشت کے تنوع کا بنیادی محرک ہے۔
وزیر مملکت برائے غیرملکی تجارت نے اس بات کا اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات مرکسور کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سیپا) جلد مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے، جو دونوں فریقوں کو اپنے اقتصادی تعلقات کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کا مؤثر فریم ورک فراہم کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ 2025 کے دوران متحدہ عرب امارات اور میرکوسور ممالک کے درمیان غیر تیل تجارت کا حجم 6.2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ باہمی سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں نے رکن ممالک کی معیشتوں میں نمایاں اضافی قدر پیدا کی ہے۔
ڈاکٹر ثانی الزیودی نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات صرف تعاون کے نئے شعبوں کی تلاش تک محدود نہیں بلکہ شراکت داری کے اگلے مرحلے کی تشکیل پر بھی مرکوز ہیں، جن میں غذائی سپلائی چینز کو مزید مضبوط بنانا، توانائی کی منتقلی میں تعاون بڑھانا اور لاجسٹک روابط کو فروغ دینا شامل ہے، تاکہ دونوں جانب کی صنعتوں اور برآمدکنندگان کے لیے نئی منڈیاں کھولی جا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران عالمی جغرافیائی سیاسی پیش رفت نے مضبوط بین الاقوامی شراکت داریوں اور عالمی قوانین پر مبنی آزاد تجارتی نظام کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور میرکوسور ممالک ایسی شراکت داری قائم کریں جو دونوں معیشتوں کے عزائم کی عکاس ہو، کاروباری برادری کے لیے پائیدار فوائد پیدا کرے اور دونوں خطوں کے عوام کی خوشحالی میں کردار ادا کرے۔
میرکوسورسربراہی اجلاس میں متحدہ عرب امارات کی شرکت اس کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت ملک بڑے اقتصادی بلاکس کے ساتھ جامع اقتصادی شراکت داریوں کے نیٹ ورک کو وسعت دے رہا ہے اور عالمی منڈیوں میں اپنی موجودگی مستحکم کر رہا ہے، تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کو پائیدار اقتصادی ترقی کے بنیادی محرک کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔