بیونس آئرس، 2 جولائی، 2026 (وام) -- وزیر مملکت برائے غیرملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے ارجنٹینا کے سرکاری دورے کے دوران اعلیٰ حکومتی حکام اور نجی شعبے کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں، جن میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے اعلیٰ معیار کی شراکت داریوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ ملاقاتیں "یو اے ای ٹریڈ ڈیز" کے سلسلے میں ہونے والے سرکاری دورے کے دوران ہوئیں، جس میں حکومتی عہدیداروں، کاروباری شخصیات اور مختلف اسٹریٹجک شعبوں میں کام کرنے والی اماراتی کمپنیوں کے نمائندوں پر مشتمل اعلیٰ سطحی اقتصادی وفد بھی شامل تھا۔
ڈاکٹر ثانی الزیودی نے ارجنٹینا کے وزیر خارجہ، بین الاقوامی تجارت و مذہبی امور پابلو کیرنو ماغرانی سمیت متعدد اعلیٰ حکام اور کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔
ملاقاتوں میں ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، لاجسٹکس اور تجارت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کو مزید وسعت دینے کے امکانات پر غور کیا گیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اسٹریٹجک تعلقات اور انہیں مزید مستحکم کرنے کے مشترکہ عزم کا اعادہ بھی کیا گیا، جو لاطینی امریکی ممالک کے ساتھ مؤثر اقتصادی شراکت داریوں کے قیام اور عالمی تجارتی نیٹ ورک کی توسیع سے متعلق متحدہ عرب امارات کے وژن سے ہم آہنگ ہے۔
دورے کے دوران بیونس آئرس میں ایک کاروباری گول میز کانفرنس بھی منعقد ہوئی، جس میں متحدہ عرب امارات اور ارجنٹینا کے سرمایہ کاروں اور کاروباری رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں دونوں منڈیوں میں تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع، نجی شعبے کے درمیان شراکت داری، سرمایہ کاری کے بہاؤ میں اضافہ، تجارتی تبادلے کے فروغ اور پائیدار اقتصادی ترقی کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
ڈاکٹر ثانی الزیودی نے کہا کہ ارجنٹینا لاطینی امریکہ میں متحدہ عرب امارات کے اہم ترین تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے اور دونوں ممالک معیشت، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے مشترکہ وژن پر متفق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، جس کا اظہار تجارت کے بڑھتے حجم اور زراعت، غذائی تحفظ، توانائی، کان کنی، سائنس، ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ سے ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ اپنی اپنی مسابقتی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتصادی شراکت داری کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ ان کے مطابق ارجنٹینا زراعت، غذائی صنعتوں اور جدید ٹیکنالوجی میں وسیع صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات عالمی معیار کا سرمایہ کاری ماحول، عالمی منڈیوں کو جوڑنے والا اسٹریٹجک محلِ وقوع، اور قابلِ تجدید توانائی، لاجسٹکس، علم پر مبنی معیشت اور مصنوعی ذہانت میں نمایاں مہارت رکھتا ہے۔
ڈاکٹر ثانی الزیودی کے مطابق ارجنٹینا کے ساتھ ہونے والی بات چیت اقتصادی ترقی اور باہمی مفاد کے لیے ایک نئے مشترکہ وژن کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر تجارت اور جدت کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اماراتی وفد اور دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں و کاروباری شخصیات کے درمیان ملاقاتوں سے نئی سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی ہوئی اور نجی شعبے کے درمیان رابطے مزید مضبوط ہوئے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات اقتصادی تعاون کے فروغ میں نجی شعبے کو کلیدی شراکت دار سمجھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2025 میں متحدہ عرب امارات اور ارجنٹینا کے درمیان غیر تیل تجارت کا حجم 767.5 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گیا، جو 2024 کے مقابلے میں 42.6 فیصد زیادہ ہے۔ یہ اعدادوشمار خصوصاً غذائی تحفظ، زراعت، قابلِ تجدید توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تجارت کے وسیع امکانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ارجنٹینا کا یہ دورہ متحدہ عرب امارات کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کے تحت ستمبر 2021 میں شروع کیے گئے جامع اقتصادی شراکت داری معاہدوں (سیپا) کے پروگرام کے ذریعے ایشیا، افریقہ، یورپ اور امریکا کے مختلف ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات آزاد، کھلے اور قواعد پر مبنی عالمی تجارتی نظام کے لیے اپنے عزم کے ذریعے تجارت اور سرمایہ کاری کے عالمی مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر رہا ہے، جبکہ ملک نے غیر تیل غیرملکی تجارت کو ایک کھرب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقررہ وقت سے چھ سال پہلے ہی حاصل کر لیا ہے۔ ارجنٹینا کے اس دورے کے نتائج دونوں ممالک کے درمیان مزید گہری اقتصادی شراکت داری اور مشترکہ ترقی و خوشحالی کے نئے مواقع کی بنیاد فراہم کریں گے۔