رواں سال کی پہلی ششماہی میں متحدہ عرب امارات کا رئیل اسٹیٹ شعبہ مزید مستحکم، سرمایہ کاری کے لیے عالمی سطح پر نمایاں مقام برقرار

ابوظہبی، 5 جولائی، 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات کے رئیل اسٹیٹ شعبے نے رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران سرمایہ کاری کے لیے دنیا کے سب سے متحرک اور پرکشش شعبوں میں اپنی حیثیت مزید مضبوط کی ہے۔ قومی معیشت کی مضبوط بنیادوں، کاروبار دوست حکومتی پالیسیوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں و سرمایہ کے مسلسل بہاؤ نے اس شعبے کی ترقی کو نئی رفتار دی، جبکہ ماہرین نے سال کی دوسری ششماہی میں بھی اسی مثبت رجحان کے برقرار رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔

رئیل اسٹیٹ مارکیٹ کے اشاریوں کے مطابق متحدہ عرب امارات بدستور دنیا کی نمایاں جائیداد سرمایہ کاری کی منڈیوں میں شامل ہے۔

سرکاری حکام اور ماہرین نے امارات نیوز ایجنسی (وام) کو بتایا کہ عالمی مشاورتی اداروں کی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی برسوں کی تیز رفتار ترقی کے بعد ملکی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ اب زیادہ پختہ اور پائیدار مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کی بنیاد مضبوط معاشی عوامل پر استوار ہے۔

عالمی کمرشل رئیل اسٹیٹ سروسز کمپنی 'سی بی آر ای' کی رواں سال اپریل میں جاری رپورٹ میں کہا گیا کہ متحدہ عرب امارات مضبوط مالی ذخائر اور مستحکم خودمختار کریڈٹ ریٹنگ کی بدولت مضبوط معاشی بنیادوں کا حامل ہے، جبکہ 2027 تک مجموعی قومی پیداوار میں نمایاں بحالی کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔

اسی طرح عالمی رئیل اسٹیٹ مشاورتی ادارے 'نائٹ فرینک' کی رپورٹ کے مطابق دبئی نے دولت مند افراد کی منتقلی اور رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری کے عالمی مرکز کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات انتہائی زیادہ دولت رکھنے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں شامل رہا۔

'ADXinteract' پلیٹ فارم کے تجزیے کے مطابق اپارٹمنٹس اور ولاز کی فروخت کی مجموعی مالیت 173.9 فیصد اضافے کے ساتھ 84.4 ارب درہم سے تجاوز کر گئی، جبکہ لین دین کی تعداد 103 فیصد بڑھ کر 16 ہزار 585 تک پہنچ گئی۔

دبئی میں ڈبلیو کیپیٹل رئیل اسٹیٹ بروکر کی تحقیق کے مطابق سال کی پہلی ششماہی میں رئیل اسٹیٹ فروخت کا حجم 286 ارب درہم سے تجاوز کر گیا، جو دبئی کی تاریخ میں دوسری بلند ترین ششماہی فروخت ہے۔ اس سے قبل 2025 کی پہلی ششماہی میں فروخت 326.6 ارب درہم ریکارڈ کی گئی تھی۔

کمپنی کی ایک اور رپورٹ کے مطابق 2026 کے آغاز سے اب تک اعلان کیے گئے نئے رئیل اسٹیٹ منصوبوں کی مجموعی مالیت 275 ارب درہم سے زیادہ رہی، جو دبئی کی تاریخ میں نئی رئیل اسٹیٹ اسکیموں کے آغاز کی سب سے بڑی ششماہی سرگرمی قرار دی گئی ہے۔

عزیزی ڈیولپمنٹس کے گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر فرہاد عزیزی نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ کا شعبہ قومی معیشت کے اہم ستون کے طور پر اپنی حیثیت مزید مضبوط کر رہا ہے۔ ان کے مطابق حقیقی رہائشی مانگ، غیر ملکی سرمایہ کاری کے مسلسل بہاؤ اور خود مالی وسائل سے خریداری کرنے والے خریداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی پختگی کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا مستحکم معاشی ماحول، لچکدار قوانین اور طویل المدتی ترقیاتی وژن عالمی سرمایہ کاروں کے لیے اس کی کشش میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سال کی دوسری ششماہی میں بھی مثبت کارکردگی برقرار رہنے کا امکان ہے، جہاں مسابقت کا دارومدار بہتر منصوبہ بندی، تیز رفتار تکمیل، موزوں محلِ وقوع اور طویل المدتی سرمایہ کاری کی قدر رکھنے والے منصوبوں پر ہوگا۔

فرہاد عزیزی نے کہا کہ آبادی میں مسلسل اضافہ، معاشی سرگرمیوں میں وسعت، رہائشی منصوبوں کی مانگ، طویل مدتی اقامتی پروگرام، دبئی اکنامک ایجنڈا D33 پر عمل درآمد، بالخصوص دبئی ساؤتھ اور المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اطراف بنیادی ڈھانچے کی ترقی، اور رہائشی قرضوں کی بہتر سہولتیں مستقبل میں سرمایہ کاروں اور ڈیولپرز کے اعتماد کو مزید مضبوط بنائیں گی۔

اوہانا ڈیولپمنٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر حسین سالم نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ مارکیٹ اب زیادہ پختہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ترقی کا انحصار طویل المدتی مانگ پر ہے۔ ان کے مطابق ابوظبی اور دبئی میں مسلسل ریکارڈ ساز رئیل اسٹیٹ سودے اس شعبے کی مضبوطی اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی صلاحیت کا ثبوت ہیں۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ سال کی دوسری ششماہی میں رہائشی کمیونٹیز، برانڈڈ منصوبوں اور واٹر فرنٹ منصوبوں کی مانگ برقرار رہے گی، جبکہ نئی سپلائی مانگ اور رسد کے درمیان متوازن صورتحال برقرار رکھنے میں معاون ہوگی۔

'ریفائن' کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر تھامس وان نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا رئیل اسٹیٹ شعبہ غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ اگرچہ مانگ مضبوط ہے، تاہم خریدار اب منصوبے کے معیار، محلِ وقوع، ڈیولپر کی ساکھ اور مجموعی رہائشی تجربے کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں، جو مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی پختگی کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ عرصے میں کامیابی انہی ڈیولپرز کو ملے گی جو مارکیٹ کی حقیقی ضروریات کے مطابق منصوبے متعارف کرائیں گے، مناسب قیمتوں کی حکمت عملی اپنائیں گے اور نئی سپلائی کے باوجود اپنی مسابقت برقرار رکھیں گے۔

الباغ گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور چیف فنانشل آفیسر سید محروز نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کا رئیل اسٹیٹ شعبہ 2026 کے دوران بھی اپنی مضبوط کارکردگی برقرار رکھے ہوئے ہے اور دنیا کی پرکشش ترین جائیداد منڈیوں میں اپنی جگہ قائم رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ مضبوط مانگ، ملک کا طویل المدتی ترقیاتی وژن، معیشت میں تنوع، دولت مند افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد، سرمایہ کاری اور اقامتی پالیسیوں میں اصلاحات اور بنیادی ڈھانچے کی مسلسل توسیع نے متحدہ عرب امارات کو افراد اور کاروباری اداروں کے لیے طویل المدتی سرمایہ کاری اور رہائش کی پسندیدہ منزل بنا دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سال کے باقی حصے میں بھی اعلیٰ معیار کی رہائشی کمیونٹیز، برانڈڈ منصوبوں، واٹر فرنٹ ترقیاتی منصوبوں اور معیاری تجارتی جائیدادوں کی مانگ برقرار رہنے کی توقع ہے، کیونکہ سرمایہ کار اب طویل المدتی قدر، معیارِ زندگی اور اثاثوں کی پائیداری کو زیادہ اہمیت دے رہے ہیں۔