محکمہ ثقافت و سیاحت – ابوظہبی کا پبلک آرٹ ابوظہبی بینالی کے دوسرے ایڈیشن کی تاریخوں اور موضوع کا اعلان

ابوظہبی، 6 جولائی، 2026 (وام) -- محکمہ ثقافت و سیاحت – ابوظہبی نے پبلک آرٹ ابوظہبی بینالی کے دوسرے ایڈیشن کی تاریخوں اور مرکزی موضوع کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ اس کا افتتاح 23 اکتوبر 2026 کو العین میں ہوگا، جبکہ 15 نومبر 2026 کو ابوظہبی میں افتتاحی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ اس موقع پر دونوں شہروں کے عوامی مقامات کو فنونِ لطیفہ کی نمائش اور عوامی شرکت کے مراکز میں تبدیل کیا جائے گا۔

بارسلونا کے میوزیو ڈی آرٹ کونٹیمپورانی ڈی بارسلونا کی سابق ڈائریکٹر ایلویرا دیانگانی اوسے کی فنی نگرانی میں منعقد ہونے والے اس ایڈیشن کا موضوع 'گھر: مشترکہ احساسِ وابستگی کی لغت' رکھا گیا ہے۔

ایلویرا دیانگانی اوسے کے عوامی مقامات اور کمیونٹی کی شمولیت سے متعلق وسیع تجربے کی بنیاد پر اس بینالی میں 'گھر' کو کسی مخصوص جغرافیائی مقام کے بجائے ایک ارتقا پذیر، اجتماعی اور متنوع تصور کے طور پر پیش کیا جائے گا۔

نمائش میں مختلف مقامات پر خصوصی فن پاروں، تحقیقی بنیادوں پر تیار کیے گئے منصوبوں اور عوامی سرگرمیوں کے ذریعے لوگوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں فن سے براہِ راست وابستہ ہونے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔

یہ ایڈیشن پبلک آرٹ ابوظہبی بینالی کے پہلے کامیاب ایڈیشن 'پبلک میٹر' (2024-25) کی کامیابی کو آگے بڑھاتا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات اور دنیا بھر کے فنکاروں کے متعدد خصوصی فن پارے مختلف مقامات پر پیش کیے گئے تھے۔

نیا ایڈیشن بھی فنکاروں، مقامی برادریوں اور مقامات کے درمیان مضبوط تعلقات استوار کرنے کے عزم کو برقرار رکھے گا۔ پہلے ایڈیشن کے کئی فن پارے مستقل تنصیبات کے طور پر محفوظ کیے جا چکے ہیں، جو امارت کے بڑھتے ہوئے عوامی فن پاروں کے ذخیرے کا حصہ بن گئے ہیں۔

آئندہ بینالی میں عوامی فن کو صرف جمالیاتی اظہار تک محدود رکھنے کے بجائے سماجی شرکت، مکالمے اور اجتماعی تخلیق کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر پیش کیا جائے گا، تاکہ ابوظبی کے شہری ماحول، ثقافتی تنوع اور مقامی شناخت کی عکاسی کرتے ہوئے عوام میں مشترکہ احساسِ وابستگی کو فروغ دیا جا سکے۔

پبلک آرٹ ابوظہبی کا مقصد شہر کے عوامی مقامات کو ثقافتی اظہار، مکالمے اور تبادلۂ خیال کے پلیٹ فارم میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ اقدام محکمہ ثقافت و سیاحت – ابوظہبی کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت ثقافتی ورثے کے تحفظ، فروغ اور آئندہ نسلوں تک اس کی منتقلی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جبکہ ایک پائیدار اور تخلیقی عوامی ثقافتی منظرنامہ بھی تشکیل دیا جا رہا ہے۔