ادنوک اور اِنپیکس کے درمیان 15 سالہ معاہدہ، سالانہ 10 لاکھ ٹن ایل این جی فراہم ہوگی

ٹوکیو، 7 جولائی، 2026 (وام) -- ادنوک نے جاپان کی سب سے بڑی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن کمپنی اِنپیکس کارپوریشن کے ساتھ 15 سالہ سیلز اینڈ پرچیز ایگریمنٹ پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت رویس ایل این جی منصوبے سے سالانہ 10 لاکھ ٹن مائع قدرتی گیس فراہم کی جائے گی۔

یہ معاہدہ وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی، ادنوک کے منیجنگ ڈائریکٹر اور گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر، اور ایکس آر جی کے ایگزیکٹو چیئرمین ڈاکٹر سلطان الجابر کے دورہ جاپان کے دوران اعلان کیا گیا۔ ڈاکٹر سلطان الجابر ایک وفد کی قیادت کر رہے ہیں، جو جاپانی حکومت اور کاروباری شعبے کے سینئر حکام سے ملاقاتیں کرے گا۔ ان ملاقاتوں کا مقصد یو اے ای اور جاپان کے درمیان توانائی کے دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

ادنوک ڈاؤن اسٹریم انڈسٹری، مارکیٹنگ اینڈ ٹریڈنگ کے قائم مقام چیف ایگزیکٹو آفیسر اور رویس ایل این جی کے چیئرمین ناصر المہیری کے مطابق اِنپیکس کے ساتھ یہ معاہدہ ادنوک اور ایکس آر جی کے مشترکہ عالمی ایل این جی مارکیٹنگ اور ٹریڈنگ پلیٹ فارم کے آغاز کے بعد پہلا طویل مدتی ایل این جی معاہدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ صارفین کو زیادہ ایل این جی، منڈیوں تک بہتر رسائی اور تجارتی لچک فراہم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ جاپان کے ساتھ ادنوک کی کئی دہائیوں پر محیط توانائی شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا، رویس ایل این جی منصوبے کی کمرشلائزیشن کو آگے بڑھائے گا اور اس منصوبے پر عالمی منڈی کے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔

ناصر المہیری نے مزید کہا کہ ادنوک اور ایکس آر جی 2035 تک مجموعی طور پر 47 ملین ٹن سالانہ قابل فروخت ایل این جی کا ہدف رکھتے ہیں۔ اس تناظر میں رویس ایل این جی ایشیا اور دنیا بھر کے صارفین کے لیے قابل اعتماد، لچکدار اور کم کاربن توانائی کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ ہوگا۔

یہ معاہدہ اِنپیکس اور ادنوک گروپ کے دیرینہ تعلقات کو بھی مزید مستحکم کرتا ہے۔ یہ اِنپیکس وژن 2035 سے بھی ہم آہنگ ہے، جس کا اعلان فروری 2025 میں کیا گیا تھا۔ اس وژن کے تحت اِنپیکس اپنے ایل این جی پورٹ فولیو کو مضبوط بنانے اور اپنے منصوبوں سے حاصل ہونے والی ایل این جی کے ساتھ مزید لچکدار سپلائی فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اِنپیکس ادنوک کی ایک دیرینہ اپ اسٹریم شراکت دار بھی ہے اور ابوظہبی کے متعدد آف شور اور آن شور کنسیشنز میں اس کے شراکتی مفادات موجود ہیں۔

ایل این جی بنیادی طور پر رویس ایل این جی منصوبے سے فراہم کی جائے گی، جو ابوظہبی کے الرویس انڈسٹریل سٹی میں زیر تعمیر ہے۔ اس منصوبے کے 2028 میں تجارتی آپریشنز شروع کرنے کا شیڈول ہے۔

یہ معاہدہ ادنوک کی عالمی ایل این جی توسیعی حکمت عملی میں ایک اور اہم پیش رفت ہے اور کم کاربن ایل این جی کے ایک بڑے عالمی سپلائر کے طور پر کمپنی کی پوزیشن کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

اب تک رویس ایل این جی منصوبے کی 9.6 ملین ٹن سالانہ پیداواری صلاحیت کا 90 فیصد حصہ ایشیا اور یورپ کے بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ طویل مدتی انتظامات کے تحت مختص کیا جا چکا ہے۔

رویس ایل این جی پلانٹ مشرق وسطیٰ اور افریقہ کا پہلا ایل این جی برآمدی مرکز ہوگا جو صاف توانائی پر کام کرے گا۔ اس وجہ سے یہ دنیا کے کم ترین کاربن شدت رکھنے والے ایل این جی پلانٹس میں شامل ہوگا۔ یہ سہولت حفاظت اور کارکردگی بہتر بنانے، اخراج کم کرنے اور آپریشنل معیار بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز استعمال کرے گی۔

ادنوک گیس نے نومبر 2024 میں اعلان کیا تھا کہ وہ 2028 میں رویس ایل این جی منصوبے میں ادنوک کا 60 فیصد حصہ لاگت پر حاصل کرنے کی توقع رکھتی ہے، جس کا تخمینہ تقریباً 5 ارب ڈالر ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد، دو 4.8 ملین ٹن سالانہ لیکویفیکشن ٹرینز پر مشتمل یہ منصوبہ اادنوک گیس کی موجودہ ایل این جی پیداواری صلاحیت کو دگنا سے زیادہ بڑھا کر تقریباً 15 ملین ٹن سالانہ کر دے گا۔