زاید سسٹین ایبلٹی پرائز 2027 کے لیے 177 ممالک سے 10,233 درخواستیں موصول

ابوظہبی، 13 جولائی، 2026 (وام) -- عالمی چیلنجز کے جدید اور مؤثر حل پیش کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے نمایاں زاید سسٹین ایبلٹی پرائز نے 2027 کے ایوارڈز کے لیے درخواستیں وصول کرنے کا مرحلہ مکمل کر لیا ہے۔ اس سال صحت، خوراک، توانائی، پانی، موسمیاتی اقدامات اور گلوبل ہائی اسکولز سمیت چھ زمروں میں 177 ممالک سے ریکارڈ 10 ہزار 233 درخواستیں موصول ہوئیں۔

اپنے قیام کے 18ویں سال میں داخل ہونے والے اس انعام نے ایک بار پھر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں، غیر منافع بخش تنظیموں اور ہائی اسکولوں کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کیا، جو بالخصوص پسماندہ اور سہولتوں سے محروم علاقوں میں لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے عملی حل پیش کر رہے ہیں۔

اس سال موصول ہونے والی درخواستوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جدت طرازی کے ساتھ ساتھ لچک، بدلتے حالات سے مطابقت اور دیرپا اثرات پر پہلے سے زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے درخواست گزار مصنوعی ذہانت پر مبنی طبی سہولتوں، جدید زرعی ٹیکنالوجی، غیر مرکزی قابل تجدید توانائی، زیر زمین پانی تک بہتر رسائی اور سرکلر اکانومی جیسے شعبوں میں ایسے عملی اور مقامی ضروریات کے مطابق حل پیش کر رہے ہیں، جن سے بنیادی سہولتوں تک رسائی بڑھانے اور جامع ترقی کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں درخواستوں کی تعداد میں 32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مقامی سطح پر تیار کیے جانے والے قابل توسیع اور مؤثر حل میں عالمی دلچسپی کے مسلسل بڑھنے کی عکاسی کرتا ہے۔

وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی اور زاید سسٹین ایبلٹی پرائز کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سلطان احمد الجابر نے کہا کہ درخواستوں کی یہ ریکارڈ تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا بھر میں ایسے عملی حل کی ضرورت بڑھ رہی ہے جو معاشروں کو زیادہ مضبوط بنائیں، بنیادی نظام کو بہتر کریں اور دیرپا مثبت نتائج پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کے درخواست گزاروں نے ثابت کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت، جدت، مقامی قیادت اور بدلتے حالات سے ہم آہنگی کے ذریعے ان علاقوں کے فوری مسائل حل کیے جا سکتے ہیں جہاں بنیادی سہولتوں تک رسائی، ان کی استطاعت اور دستیابی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

انہوں نے کہا کہ مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کے وژن کی روشنی میں یہ انعام آئندہ بھی ایسے افراد اور اداروں کی حوصلہ افزائی کرتا رہے گا جن کے حل عملی، عوامی خدمت پر مبنی اور لوگوں کی زندگیوں میں حقیقی مثبت تبدیلی لانے والے ہوں۔

دو تہائی سے زیادہ درخواستیں ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں سے موصول ہوئیں، جن میں بنگلہ دیش، برازیل، چین، کینیا اور متحدہ عرب امارات نمایاں رہے، جبکہ امریکہ اور برطانیہ سمیت ترقی یافتہ ممالک سے بھی بھرپور شرکت دیکھنے میں آئی، جو انعام کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کلائمیٹ ایکشن کے زمرے میں سب سے زیادہ 2,505 درخواستیں موصول ہوئیں، جبکہ خوراک کے لیے 2,261، صحت کے لیے 1,807، گلوبل ہائی اسکولز کے لیے 1,710، توانائی کے لیے 994 اور پانی کے شعبے میں 956 درخواستیں جمع کرائی گئیں۔

صحت کے شعبے میں زیادہ تر منصوبے مصنوعی ذہانت سے چلنے والی تشخیص، کم لاگت طبی آلات، صحت کی خدمات کی فراہمی اور مالی معاونت کے مؤثر ماڈلز پر مشتمل تھے۔ خوراک کے شعبے میں کسانوں کی معاونت، زرعی ٹیکنالوجی، خوراک کے تحفظ، فوڈ پروسیسنگ اور سپلائی چین کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی۔

توانائی کے شعبے میں توانائی کے مؤثر استعمال، ذخیرہ، قابل تجدید توانائی، اسمارٹ گرڈز اور توانائی کے بہتر انتظام سے متعلق منصوبے نمایاں رہے، جبکہ پانی کے شعبے میں زیر زمین پانی تک رسائی، اس کی نگرانی، گندے پانی کی صفائی اور دوبارہ استعمال، ڈی سیلینیشن، پانی کے معیار اور مؤثر استعمال پر مبنی تجاویز سامنے آئیں۔

کلائمیٹ ایکشن کے شعبے میں موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت، مقامی آبادی کی استعداد بڑھانے، سرکلر اکانومی، فضلہ کم کرنے، قدرتی وسائل کے تحفظ اور ماحول دوست اقدامات پر خصوصی توجہ دی گئی، جبکہ گلوبل ہائی اسکولز کے طلبہ نے قابل تجدید توانائی، پانی کی صفائی، ویسٹ مینجمنٹ، خوراک کی پیداوار، حیاتیاتی تنوع اور کمیونٹی آگاہی سے متعلق منصوبے پیش کیے۔

درخواستیں وصول کرنے کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد اب ان کا جائزہ لیا جائے گا۔ تمام درخواستوں کا آزادانہ تکنیکی اور قانونی جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل سلیکشن کمیٹی ان کا جائزہ لے گی، جبکہ حتمی فاتحین کا انتخاب جیوری ستمبر 2026 میں کرے گی۔

فاتحین کے ناموں کا اعلان 12 جنوری 2027 کو ہونے والی زاید سسٹین ایبلٹی پرائز کی تقریب میں کیا جائے گا۔ ہر تنظیمی زمرے کے فاتح کو 10 لاکھ امریکی ڈالر دیے جائیں گے، جبکہ دنیا کے مختلف خطوں کی نمائندگی کرنے والے چھ ہائی اسکولوں میں سے ہر ایک کو اپنے منصوبوں پر عمل درآمد یا انہیں وسعت دینے کے لیے ایک لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ اسی طرح ہر تنظیمی فائنلسٹ کو ایک لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر اور ہر ہائی اسکول فائنلسٹ کو 25 ہزار امریکی ڈالر ملیں گے۔

زاید سسٹین ایبلٹی پرائز اب تک اپنے 139 فاتحین کے ذریعے دنیا بھر میں 41 کروڑ 10 لاکھ سے زائد افراد کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب کر چکا ہے، جس سے جامع اور پائیدار ترقی کے فروغ میں اس کے عالمی کردار کو مزید تقویت ملی ہے۔