شارجہ، 15 جولائی، 2026 (وام) -- شارجہ کے ریئل اسٹیٹ شعبے میں 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران 29.5 ارب درہم مالیت کے لین دین ریکارڈ کیے گئے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 9.3 فیصد زیادہ ہیں۔ اس عرصے میں 59 ہزار 460 ریئل اسٹیٹ لین دین ہوئے، جن میں 23.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
شارجہ ریئل اسٹیٹ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل عبدالعزیز احمد الشمسی نے کہا کہ یہ نتائج شارجہ کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کی مضبوطی، سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد اور شہر میں سرمایہ کاری کے سازگار ماحول کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی سپریم کونسل کے رکن اور شارجہ کے حکمران عزت مآب شیخ ڈاکٹر سلطان بن محمد القاسمی کی مسلسل سرپرستی اور ولی عہد، نائب حکمران اور شارجہ ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین عزت مآب شیخ سلطان بن محمد بن سلطان القاسمی کی نگرانی کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ جدید قوانین، معیاری خدمات اور سرمایہ کار دوست اقدامات کے ذریعے شارجہ کو علاقائی اور عالمی سطح پر ایک نمایاں ریئل اسٹیٹ مرکز بنانے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
پہلی ششماہی کے دوران فروخت، حقِ انتفاع اور ابتدائی فروخت کے معاہدوں سمیت 16 ہزار 426 فروخت کے سودے ہوئے، جو 202 علاقوں اور 8 کروڑ 50 لاکھ مربع فٹ رقبے پر مشتمل تھے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 4.7 فیصد زیادہ رہی۔
سب سے زیادہ لین دین مویلح کمرشل میں ہوا، جہاں 2 ہزار 385 سودوں کی مالیت 2.8 ارب درہم رہی۔ اس کے بعد البلیڈہ میں 2 ہزار 171 سودے 1.4 ارب درہم اور الخان میں ایک ہزار 77 سودے تقریباً 1.3 ارب درہم مالیت کے ریکارڈ کیے گئے۔
فروخت ہونے والی جائیدادوں میں رہائشی املاک کا حصہ سب سے زیادہ رہا، جہاں 13 ہزار 501 سودے ہوئے، جو مجموعی فروخت کا 82.2 فیصد بنتا ہے۔ صنعتی املاک کے 1,969 سودے (12 فیصد)، تجارتی املاک کے 937 سودے (5.7 فیصد) جبکہ زرعی املاک کے 19 سودے (0.1 فیصد) ریکارڈ کیے گئے۔
اسی عرصے میں 2 ہزار 590 مارگیج کے سودے بھی ہوئے، جن کی مجموعی مالیت 7.6 ارب درہم رہی۔
شارجہ میں پہلی ششماہی کے دوران 11 نئے ریئل اسٹیٹ منصوبے رجسٹر کیے گئے، جن میں ام فنین، مویلح کمرشل، الرقیبہ، حی الحوشی اور الصجعة انڈسٹریل سمیت مختلف علاقوں میں رہائشی کمپلیکس، ٹاورز اور مخلوط نوعیت کے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں۔
غیر اماراتی اور خلیجی شہریوں کو جائیداد کی ملکیت سے متعلق شارجہ ایگزیکٹو کونسل کی قرارداد نمبر 30 برائے 2022 کے تحت فروخت کے لیے منظور شدہ منصوبوں کی تعداد بڑھ کر 50 ہوگئی، جن میں سے 6 منصوبوں کو 2026 کی پہلی ششماہی میں منظوری دی گئی۔
پہلی ششماہی کے دوران شارجہ کے ریئل اسٹیٹ شعبے میں 121 ممالک کے سرمایہ کاروں نے سرمایہ کاری کی۔ اماراتی شہریوں نے 14.9 ارب درہم مالیت کی 22 ہزار 599 جائیدادوں میں سرمایہ کاری کی، جبکہ دیگر خلیجی ممالک کے شہریوں نے 1.36 ارب درہم مالیت کی 924 جائیدادیں خریدیں۔
عرب سرمایہ کاروں نے تقریباً 5 ارب درہم مالیت کی 4 ہزار 449 جائیدادوں میں سرمایہ کاری کی، جبکہ دیگر ممالک کے سرمایہ کاروں کی سرمایہ کاری 8.2 ارب درہم رہی، جنہوں نے 4 ہزار 264 جائیدادیں خریدیں۔
جائیدادوں کی تعداد کے لحاظ سے اماراتی شہری سرفہرست رہے، جنہوں نے 22 ہزار 599 جائیدادوں کے سودے کیے۔ ان کے بعد بھارتی سرمایہ کار 1,657 جائیدادوں کے ساتھ دوسرے، شامی سرمایہ کار 1,163 جائیدادوں کے ساتھ تیسرے، جبکہ اردن (670)، عراق (668) اور مصر (662) کے سرمایہ کار بالترتیب اگلے مقامات پر رہے۔