چین میں خدمات کے شعبے کی شرح نمو 5.2 فیصد، معیشت کا اہم محرک قرار

بیجنگ، 15 جولائی، 2026 (وام) -- چین میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران خدمات کا شعبہ معیشت کا نمایاں اور مضبوط حصہ رہا، جہاں جدید خدمات میں مسلسل توسیع اور خدمات پر صارفین کے اخراجات میں تیز اضافے نے مجموعی اقتصادی استحکام کو سہارا دیا۔

چین کے قومی ادارہ شماریات کے مطابق پہلی ششماہی میں خدمات کے شعبے کی اضافی قدر میں سالانہ بنیاد پر 5.2 فیصد اضافہ ہوا، جو اسی مدت کے دوران چین کی مجموعی قومی پیداوار کی 4.7 فیصد شرح نمو سے زیادہ ہے۔

اس عرصے میں خدمات کی خوردہ فروخت میں 5.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اشیا کی خوردہ فروخت میں اضافہ صرف 1.1 فیصد رہا۔

گلوبل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق تجزیہ کاروں نے کہا کہ تازہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدمات کی طلب میں بتدریج بہتری آئی ہے، جبکہ ٹیکنالوجی کی ترقی اور صنعتی شعبے کی جدید کاری سے منسلک خدمات اقتصادی نمو کے اہم محرک کے طور پر ابھر رہی ہیں۔

جون میں قومی خدماتی پیداوار کے اشاریے میں سالانہ بنیاد پر 4.7 فیصد اضافہ ہوا، جو مئی کے مقابلے میں 0.3 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔

ٹیلی کمیونیکیشن، انٹرنیٹ سافٹ ویئر، انفارمیشن ٹیکنالوجی خدمات، مالیات اور انشورنس سمیت مختلف شعبوں میں کاروباری سرگرمیاں مضبوط رہیں، جبکہ ان شعبوں کے کاروباری سرگرمی کے اشاریے 55 فیصد سے زائد ریکارڈ کیے گئے۔