شارجہ، 16 جولائی، 2026 (وام) -- شارجہ کے وسطی اور مشرقی علاقوں میں 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران تقریباً 1.1 ارب درہم مالیت کی ریئل اسٹیٹ ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں، جبکہ 16 ہزار 310 لین دین مکمل ہوئے، جو ان علاقوں میں سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی سرگرمی اور ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کی مضبوطی کی عکاسی کرتے ہیں۔
شارجہ ریئل اسٹیٹ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ کے مطابق اس عرصے میں فروخت ہونے والی جائیدادوں کا مجموعی رقبہ 3 کروڑ 70 لاکھ مربع فٹ رہا، جس سے وسطی اور مشرقی علاقوں میں تعمیراتی اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں میں مسلسل وسعت کا ظاہر ہوتی ہے۔
محکمے کے برانچز ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر عمر المنصوری نے کہا کہ شارجہ حکومت کی ترقیاتی حکمت عملی، جدید بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کار دوست ماحول اور شہری ترقیاتی منصوبوں نے ان علاقوں کو ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاری کا اہم مرکز بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری اب صرف محدود علاقوں تک نہیں بلکہ نئی شہری آبادیوں اور ترقی پذیر علاقوں تک بھی پھیل رہی ہے۔
مالی حجم کے لحاظ سے کلبا سرفہرست رہا، جہاں 513 ملین درہم مالیت کے سودے ہوئے، جو شارجہ شہر کی برانچ کے علاوہ دیگر برانچوں کی مجموعی ٹرانزیکشن ویلیو کا 45.5 فیصد بنتے ہیں۔ اس کے بعد وسطی علاقے میں 398 ملین درہم، خورفکان میں 190.9 ملین درہم اور دبا الحصن میں 25 ملین درہم مالیت کے سودے ریکارڈ کیے گئے۔
فروخت کے سودوں کی تعداد میں وسطی علاقے نے سبقت حاصل کی، جہاں 3 ہزار 928 سودے ہوئے، جبکہ خورفکان میں 272، کلبا میں 154 اور دبا الحصن میں 12 فروخت کے سودے ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق پہلی ششماہی کے دوران 452 رہن (مارگیج) ٹرانزیکشنز بھی ہوئیں، جن کی مجموعی مالیت 335 ملین درہم رہی، جو ریئل اسٹیٹ شعبے میں مالیاتی سرگرمیوں کے تسلسل کی نشاندہی کرتی ہیں۔
مارگیج ٹرانزیکشنز کی تعداد میں بھی کلبا 239 سودوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا، جبکہ خورفکان میں 121، وسطی علاقے میں 82 اور دبا الحصن میں 10 رہن کے سودے ریکارڈ کیے گئے۔