دبئی، 19 جولائی، 2026 (وام)-- متحدہ عرب امارات کی غیر تیل غیر ملکی تجارت 2026 کی پہلی ششماہی میں پہلی مرتبہ 1.937 ٹریلین درہم تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 13.1 فیصد زیادہ ہے، جبکہ غیر تیل قومی برآمدات 452.8 ارب درہم کی نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔
نائب صدر، وزیراعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم نے پہلی ششماہی کے تجارتی نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ صرف چھ ماہ میں غیر تیل تجارت دو ٹریلین درہم کی حد کے قریب پہنچ گئی ہے، جو ملکی معیشت کی مضبوط بنیادوں اور عالمی منڈیوں میں متحدہ عرب امارات پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار محض تجارتی سرگرمیوں کی عکاسی نہیں کرتے بلکہ ترقیاتی پالیسیوں کی کامیابی، اقتصادی تنوع اور عالمی سرمایہ کاروں و تجارتی شراکت داروں کے اعتماد کی بھی ترجمانی کرتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2026 کی پہلی ششماہی میں غیر تیل غیر ملکی تجارت 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 13.1 فیصد، 2024 کے مقابلے میں 39.6 فیصد، 2023 کے مقابلے میں 54.5 فیصد اور 2022 کے مقابلے میں 78.8 فیصد زیادہ رہی، جبکہ اس کا حجم 2019 اور 2021 کی پہلی ششماہی کے مقابلے میں دوگنا سے بھی تجاوز کر گیا، جو حالیہ برسوں میں ملکی تجارت کی مسلسل تیز رفتار ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔
غیر تیل برآمدات اس عرصے میں تجارتی نمو کا سب سے بڑا ذریعہ رہیں۔ برآمدات میں سالانہ بنیاد پر 23.9 فیصد اضافہ ہوا اور ان کی مالیت 452.8 ارب درہم تک پہنچ گئی، جبکہ مجموعی غیر تیل تجارت میں ان کا حصہ بڑھ کر 23.4 فیصد ہو گیا، جو گزشتہ سال 21.3 فیصد تھا۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اماراتی معیشت درآمدات پر انحصار سے آگے بڑھتے ہوئے پیداوار، برآمدات اور ویلیو ایڈیشن پر مبنی اقتصادی ماڈل کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔
تجارتی شراکت داروں میں چین بدستور متحدہ عرب امارات کا سب سے بڑا شراکت دار رہا، جہاں غیر تیل تجارت کا حجم 180.7 ارب درہم ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد سوئٹزرلینڈ 138.4 ارب درہم اور بھارت 107.5 ارب درہم کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے، جبکہ مصر، عمان اور ہانگ کانگ کے ساتھ تجارت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق امارات کے دس بڑے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ غیر تیل تجارت میں 12.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دیگر ممالک کے ساتھ تجارت 13.6 فیصد بڑھی، جو عالمی سطح پر امارات کے تجارتی تعلقات میں مسلسل تنوع اور توسیع کی عکاسی کرتی ہے۔
جامع اقتصادی شراکت داری معاہدوں (سیپا) کے مثبت نتائج بھی نمایاں رہے۔ مکمل طور پر نافذ العمل معاہدوں والے ممالک کے ساتھ غیر تیل تجارت 304.3 ارب درہم تک پہنچ گئی، جن میں درآمدات 193.5 ارب درہم اور غیر تیل برآمدات 66.1 ارب درہم رہیں۔ ان ممالک کے ساتھ مجموعی تجارت میں غیر تیل برآمدات کا حصہ بڑھ کر 21.7 فیصد ہو گیا، جو 2022 میں 19.1 فیصد تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیپا معاہدے اماراتی مصنوعات اور کمپنیوں کے لیے نئی عالمی منڈیوں تک رسائی کو مزید وسعت دے رہے ہیں۔
اشیا کے لحاظ سے سونا غیر تیل تجارت میں بدستور سرفہرست رہا، جس کی مالیت 706.2 ارب درہم رہی، جو ایک سال پہلے کے مقابلے میں 48.8 فیصد زیادہ ہے۔ اس کے بعد ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ 189.7 ارب درہم کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ سونے کے زیورات، گاڑیاں اور ہیرے بھی اہم تجارتی اشیا میں شامل رہے۔ پہلی ششماہی کے دوران سرفہرست دس اشیا مجموعی غیر تیل تجارتی سرگرمیوں کا تقریباً 67 فیصد حصہ رہیں۔
یہ نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات کی معیشت آزاد تجارت، اقتصادی تنوع اور بین الاقوامی شراکت داری کی پالیسیوں کی بدولت مسلسل مستحکم ہو رہی ہے، جبکہ غیر تیل شعبے کی تیز رفتار ترقی ملک کو دنیا کی سب سے زیادہ مسابقتی اور متحرک معیشتوں میں شامل رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔