یو اے ای کے 37 جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے، 18 نافذ العمل؛ مزید 20 ممالک سے مذاکرات جاری: ثانی الزیودی

ابوظہبی، 20 جولائی، 2026 (وام) -- وزیر مملکت برائے خارجہ تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات اب تک 37 جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (سیپا) مکمل کر چکا ہے، جن میں سے 18 معاہدے نافذ العمل ہو چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات تقریباً 20 مزید ممالک کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے اور تجارتی راہداریوں کی ترقی کے منصوبوں پر بھی عمل جاری ہے، جس کا مقصد ملک کی غیر ملکی تجارت کو مزید مستحکم بنانا اور متحدہ عرب امارات کی عالمی تجارتی مرکز کی حیثیت کو مضبوط کرنا ہے۔

امارات نیوز ایجنسی (وام) سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ثانی الزیودی نے کہا کہ آئندہ دو سے تین ماہ کے دوران مزید کئی اقتصادی شراکت داری معاہدوں کے نافذ ہونے کی توقع ہے، جن میں یوریشین گروپ کے بعض ممالک کے ساتھ معاہدے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فلپائن کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو رواں سال کے اختتام سے قبل نافذ کرنے کے لیے دونوں ممالک ضروری قانونی اور انتظامی کارروائیاں مکمل کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر ثانی الزیودی نے بتایا کہ سال کے اختتام تک مزید پانچ سے سات ممالک کے ساتھ مذاکرات مکمل ہونے کی توقع ہے، جبکہ کینیڈا کے ساتھ مذاکرات بھی آخری مراحل میں داخل ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ روانڈا، گھانا اور زیمبیا کے ساتھ مذاکرات حتمی مرحلے میں ہیں، جبکہ بنگلہ دیش اور پیرو کے ساتھ مذاکرات میں بھی نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدے پر مذاکرات کا ساتواں دور مکمل ہو چکا ہے، تاہم ان مذاکرات کی رفتار دیگر ممالک کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کے مقابلے میں نسبتاً سست ہے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی چیلنجز کے دوران متحدہ عرب امارات کے لاجسٹکس شعبے نے غیرمعمولی استعداد کا مظاہرہ کیا۔ اس کامیابی میں ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور سڑکوں کے مربوط نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ بندرگاہوں کے انتظام، لاجسٹکس خدمات اور کسٹمز کلیئرنس سے وابستہ قومی کمپنیوں نے اہم کردار ادا کیا۔

ان کے مطابق انہی اقدامات کی بدولت ملک کنٹینرز کی آمدورفت میں نمایاں اضافے کو سنبھالنے، تجارتی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھنے اور ٹرکوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے کے لیے لچکدار انتظامی اقدامات متعارف کرانے میں کامیاب رہا۔

ڈاکٹر ثانی الزیودی نے بتایا کہ ڈی پی ورلڈ نے متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل کی بندرگاہوں کے ساتھ تیز رفتار رابطوں کو مضبوط بنانے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جبکہ سڑک کے ذریعے نقل و حمل کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ٹرکوں کے بیڑے میں بھی اضافہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے ڈی پورٹس گروپ نے بصرہ کو ترکیہ اور شام سے ملانے والی تجارتی راہداری کی استعداد بڑھانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ گزشتہ سال شروع ہونے والا یہ منصوبہ مسلسل پیش رفت کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت نے ان منصوبوں کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے، کیونکہ یہ ایسے متبادل تجارتی راستے فراہم کرتے ہیں جو جغرافیائی سیاسی حالات سے متاثر ہونے والے روایتی راستوں کا مؤثر متبادل ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان منصوبوں سے مستقبل میں شام اور ترکیہ کے ساتھ تجارت میں متوقع اضافے کو بھی سہارا ملے گا۔

ڈاکٹر ثانی الزیودی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے ترقیاتی منصوبوں میں بندرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع، سڑکوں کے نیٹ ورک کی بہتری اور اتحاد ریل منصوبے کو آگے بڑھانا بھی شامل ہے۔ ان اقدامات سے مشرقی علاقوں سے ملک کی اہم بندرگاہوں تک سامان کی ترسیل مزید مؤثر ہوگی، مجموعی لاجسٹکس صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور موجودہ نقل و حمل کی رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔