زاید سسٹین ایبلٹی پرائز کے 'بیونڈ 2020' منصوبے کے تحت بھارت میں شمسی توانائی سے چلنے والے صحت مراکز قائم، دو لاکھ سے زائد افراد کے مستفید ہونے کی متوقع

ابوظہبی، 21 جولائی، 2026 (وام) -- زاید سسٹین ایبلٹی پرائز کے تحت شروع کیے گئے نمایاں عالمی اقدام 'بیونڈ 2020' نے منگل کو بھارت میں شمسی توانائی سے چلنے والے صحت مراکز کی تنصیب مکمل کرنے کا اعلان کیا، جس سے دو لاکھ سے زائد افراد کو قابلِ اعتماد طبی سہولتوں تک رسائی حاصل ہوگی۔

بھارت کی جنوب مغربی ریاست کرناٹک میں مکمل ہونے والے اس منصوبے کے تحت شمسی توانائی سے چلنے والی چھ صحت سہولتیں قائم کی گئی ہیں، جنہیں توانائی کی بچت کرنے والی جدید طبی ٹیکنالوجی سے لیس کیا گیا ہے۔

یہ مراکز دور دراز علاقوں میں صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوئے ہیں، جہاں بجلی کی فراہمی محدود ہے۔ اس اقدام سے مقامی آبادی کو ضروری طبی خدمات اپنے علاقوں میں ہی میسر آئیں گی اور انہیں علاج کے لیے بڑے شہروں کا طویل سفر نہیں کرنا پڑے گا۔

بھارت میں 'بیونڈ 2020' منصوبے پر عمل درآمد سیلکو فاؤنڈیشن نے کیا، جو زاید سسٹین ایبلٹی پرائز 2018 کی فاتح اور بھارت کی ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے۔ یہ ادارہ پائیدار توانائی کو غربت کے خاتمے اور ماحولیاتی تحفظ کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بناتے ہوئے کام کر رہا ہے۔

اس موقع پر وزیر صحت و روک تھام احمد علی الصائغ نے کہا کہ 'بیونڈ 2020' کے ذریعے متحدہ عرب امارات ایسے عملی حل کی سرپرستی جاری رکھے ہوئے ہے جو لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے، معاشروں کی استعداد بڑھانے اور عالمی تعاون کو فروغ دینے میں مددگار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت میں اس منصوبے کے دیرپا نتائج پائیدار ترقی کے فروغ اور بنیادی طبی سہولتوں تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔

احمد علی الصائغ نے مزید کہا کہ مرحوم شیخ زاید بن سلطان النہیان کی ہمدردی اور عملی خدمت کے وژن کی رہنمائی میں متحدہ عرب امارات ضرورت مند برادریوں کی معاونت اور ایسے شراکتی منصوبوں کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے جو دیرپا اور مثبت نتائج فراہم کریں۔

سیلکو فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر ہریش ہانڈے نے کہا کہ توانائی بہتر طبی خدمات کی فراہمی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق شمسی توانائی کے ذریعے صحت مراکز کو جدید خطوط پر استوار کر کے معیاری طبی سہولتیں دور افتادہ علاقوں تک پہنچائی جا سکتی ہیں، جبکہ ادارے کا مقصد اس ماڈل کو ملک بھر میں توسیع دینا ہے تاکہ پائیدار توانائی صحت کے بہتر نتائج میں مسلسل کردار ادا کرتی رہے۔

بھارت میں 30 ہزار سے زائد بنیادی صحت مراکز اور ڈیڑھ لاکھ ذیلی صحت مراکز موجود ہیں، جن میں سے بڑی تعداد دور دراز علاقوں میں واقع ہے۔ ان علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی کمزوری کے باعث طبی سہولتوں تک رسائی محدود ہے، جس سے مریضوں کو طویل سفر اور زیادہ اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کرناٹک سمیت بعض ریاستوں میں صحت کی دیکھ بھال پر آنے والے اخراجات قومی اوسط سے بھی زیادہ ہیں۔

اس کے علاوہ کئی علاقوں میں بجلی کی غیر مستحکم فراہمی ویکسین کے محفوظ ذخیرے، تشخیصی سہولتوں اور دیگر اہم طبی آلات کے مؤثر استعمال میں رکاوٹ بنتی ہے، جس سے پائیدار توانائی پر مبنی حل کی ضرورت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔

شمسی توانائی سے چلنے والے ان مراکز میں ایسے سولر فوٹو وولٹک نظام نصب کیے گئے ہیں جو دھوپ کی موزوں صورتحال میں 2 سے 15 کلوواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ آف گرڈ نظام اور لیتھیم آئن بیٹریاں بھی نصب کی گئی ہیں، جو ڈیڑھ سے دو دن تک بجلی ذخیرہ کر سکتی ہیں۔

ان مراکز میں توانائی کی بچت کرنے والے متعدد جدید طبی آلات بھی فراہم کیے گئے ہیں، جن میں نومولود اور زچہ و بچہ کی نگہداشت کے لیے پورٹیبل بے بی وارمرز، فوٹو تھراپی یونٹس، فیٹل مانیٹرز اور مصنوعی تنفس کے آلات شامل ہیں۔

اس کے علاوہ درجہ حرارت کو برقرار رکھنے والا ویکسین کیریئر، ڈیجیٹل اسٹیتھو اسکوپ، اسپائرومیٹر، ٹیلی ڈرماٹولوجی، ڈیجیٹل مائیکروسکوپس، ٹیلی میڈیسن یونٹس اور دیگر قابلِ نقل طبی آلات بھی فراہم کیے گئے ہیں، جو دور دراز علاقوں میں تشخیص اور علاج کی سہولت کو بہتر بناتے ہیں۔

منصوبے کے تحت سیلکو فاؤنڈیشن نے دیہی علاقوں میں صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سوامی وویکانند یوتھ موومنٹ کے اشتراک سے ایک موبائل ہیلتھ کلینک بھی متعارف کرایا، جو دور افتادہ آبادیوں تک طبی خدمات پہنچانے اور اس اقدام کے دیرپا اثرات کو یقینی بنانے میں مدد دے رہا ہے۔

'بیونڈ 2020' منصوبے کے شراکت داروں میں ابوظہبی فنڈ برائے ترقی، بی این پی پریباس، مبادلہ انرجی، مصدر اور ابوظہبی کمرشل بینک شامل ہیں۔

اب تک اس اقدام کے تحت توانائی، صحت، پانی اور غذائی تحفظ سے متعلق 19 منصوبے نیپال، تنزانیہ، یوگنڈا، اردن، مصر، کمبوڈیا، مڈغاسکر، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، فلپائن، روانڈا، پیرو، لبنان، سوڈان، ایتھوپیا، ویتنام، ملائیشیا، کوسٹا ریکا اور بھارت میں مکمل کیے جا چکے ہیں، جن سے 4 لاکھ 29 ہزار 800 سے زائد افراد کی زندگیوں میں بہتری آئی ہے۔

اعلان کے مطابق اس عالمی اقدام کے 20ویں منصوبے کے لیے کولمبیا کا انتخاب کیا گیا ہے۔