ابوظہبی، 21 جولائی، 2026 (وام) -- ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ادنوک) نے اپنے عالمی شراکت داروں ٹوٹل انرجیز، اینی اور چائنا نیشنل پیٹرولیم کارپوریشن (سی این پی سی) کے ساتھ مل کر ابوظہبی میں ام الشیف گیس کیپ منصوبے کی ترقی کے لیے 6.2 ارب امریکی ڈالر (22.6 ارب درہم) کی حتمی سرمایہ کاری کی منظوری (FID) دے دی ہے، جس کے ذریعے کمپنی اپنی مربوط عالمی گیس ترقیاتی حکمت عملی کو مزید تیز کر رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات دنیا کے ساتویں بڑے قدرتی گیس کے ذخائر کا حامل ہے۔ قدرتی گیس کی عالمی مانگ میں مسلسل اضافے کے پیش نظر ادنوک ملکی گیس کے وسائل سے مزید استفادہ کرتے ہوئے اپنے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے پورٹ فولیو کو وسعت دے رہی ہے، تاکہ ملکی اور بین الاقوامی صارفین کی ضروریات پوری کی جا سکیں اور صنعتی و مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو توانائی فراہم کی جا سکے۔
ام الشیف گیس کیپ منصوبے کی یہ سرمایہ کاری ادنوک کی گیس ترقیاتی حکمت عملی میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے ذریعے یومیہ 60 کروڑ معیاری مکعب فٹ سے زائد قدرتی گیس اور اس سے منسلک گیس مائعات حاصل ہوں گے۔ یہ مقدار متحدہ عرب امارات کی موجودہ یومیہ گیس کھپت کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہے۔ اس منصوبے سے ملک کی توانائی کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی فراہم کنندہ کے طور پر متحدہ عرب امارات کا کردار بھی مستحکم ہوگا۔
منصوبے سے گیس کی پیداوار 2030 تک شروع ہونے کی توقع ہے۔
وزیر صنعت و جدید ٹیکنالوجی اور ادنوک کے منیجنگ ڈائریکٹر و گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سلطان احمد الجابر نے کہا کہ قدرتی گیس کی عالمی مانگ میں مسلسل اضافے کے پیش نظر ادنوک متحدہ عرب امارات کے وسیع گیس ذخائر سے مزید فائدہ اٹھانے اور اپنے عالمی ایل این جی پلیٹ فارم کو وسعت دینے کے لیے مربوط گیس حکمت عملی پر تیزی سے عمل کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ام الشیف گیس کیپ منصوبے کی حتمی سرمایہ کاری کی منظوری اس حکمت عملی پر عمل درآمد کا ایک اہم سنگِ میل ہے، جو ادنوک کے قابلِ اعتماد عالمی گیس فراہم کنندہ کے کردار کو مزید مضبوط بنائے گی۔
ڈاکٹر سلطان احمد الجابر نے مزید کہا کہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ابوظہبی کے سب سے قدیم آف شور آئل فیلڈ کے ذمہ دارانہ انتظام کے تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے متحدہ عرب امارات اور اس کے صارفین کے لیے طویل مدتی اقتصادی فوائد پیدا کیے جا رہے ہیں۔
ام الشیف گیس کیپ منصوبے کی سرمایہ کاری متحدہ عرب امارات کی عالمی سرمایہ کاری کے لیے قابلِ اعتماد مرکز کی حیثیت کو مزید مستحکم کرتی ہے۔ یہ پیش رفت سپریم کونسل برائے مالی و اقتصادی امور کی جانب سے باب گیس کیپ منصوبے کا کنسیشن معاہدہ دینے کے بعد سامنے آئی ہے، جس سے یومیہ مزید 1.5 ارب معیاری مکعب فٹ قدرتی گیس اور اس سے منسلک گیس مائعات حاصل ہونے کی توقع ہے۔
یہ منصوبہ ادنوک کی جانب سے ابوظہبی گلوبل مارکیٹ میں قائم عالمی ایل این جی مارکیٹنگ اور ٹریڈنگ پلیٹ فارم کی توسیع کا بھی حصہ ہے، جس کا ہدف 2035 تک سالانہ 4 کروڑ 70 لاکھ ٹن قابلِ فروخت ایل این جی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔
حتمی سرمایہ کاری کے فیصلے میں انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور کنسٹرکشن (EPC) کے تین پیکجز بھی شامل ہیں، جن کی مجموعی مالیت 5.1 ارب امریکی ڈالر (18.8 ارب درہم) ہے۔ یہ معاہدے ادنوک نے متحدہ عرب امارات اور بین الاقوامی کمپنیوں پر مشتمل کنسورشیمز کو آف شور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے تفویض کیے ہیں۔
اس منصوبے میں 36 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر (1.3 ارب درہم) کا 14 کنوؤں کی کھدائی اور مربوط ڈرلنگ خدمات کا پروگرام بھی شامل ہے، جسے ادنوک ڈرلنگ موجودہ تین رِگز کے ذریعے آئندہ 18 ماہ کے دوران مکمل کرے گی۔