'آپریشن الفارس الشهم 3' کے تحت غزہ میں چوہوں اور کیڑوں کے خاتمے کے لیے صحت و ماحولیات منصوبے کا آغاز

غزہ، 22 جولائی، 2026 (وام) -- آپریشن 'الفارس الشهم 3' نے بین الاقوامی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے اداروں کے تعاون سے غزہ کی پٹی میں چوہوں اور کیڑوں کے خاتمے کے لیے صحت و ماحولیات سے متعلق ایک منصوبہ شروع کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد موجودہ انسانی ہمدردی کی صورتحال کے دوران صحت اور ماحولیات کو لاحق خطرات میں کمی لانا اور عوامی صحت کے تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔

اس منصوبے کے تمام اخراجات اور ضروری سامان آپریشن 'الفارس الشهم 3' فراہم کر رہا ہے۔ منصوبے کے تحت بے گھر افراد کے کیمپوں اور گنجان آباد علاقوں میں محفوظ اور مؤثر طریقوں سے مہمات چلائی جائیں گی، تاکہ وبائی امراض کے خطرات کم کیے جا سکیں، بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور متاثرہ آبادی کو زیادہ صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔

اس منصوبے کا اعلان ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا، جس میں اقوام متحدہ اور مقامی اداروں کے متعدد نمائندوں نے شرکت کی۔ ان میں غزہ میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے سربراہ الیسنڈرو ماراکی، مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کی نائب انسانی ہمدردی رابطہ کار سوزانا ٹکالیک، یونیسف غزہ کے سینئر ایمرجنسی کوآرڈینیٹر عبدالقادر موسیٰ، اوچا (OCHA) کے غزہ دفتر کے سربراہ طاہر ابراہیم، غزہ میں غیر سرکاری تنظیموں کے نیٹ ورک کے سربراہ امجد الشوا، دیر البلح کے میئر خلیل ابو سمرہ اور رفح کے میئر احمد الصوفی شامل تھے۔

سوزانا ٹکالیک نے متحدہ عرب امارات کی انسانی ہمدردی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مختلف شعبوں میں امدادی سرگرمیوں اور ضرورت مندوں تک امداد کی مؤثر ترسیل میں آپریشن الفارس الشهم 3 کے اہم کردار کو قابلِ تعریف قرار دیا۔

اسی موقع پر غزہ میونسپلٹیز یونین کے سربراہ ڈاکٹر یحییٰ السراج نے کہا کہ کچرے اور ملبے کے بڑھتے ہوئے ڈھیروں کے باعث صحت اور ماحولیات کو درپیش خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، جو بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت کمزور طبقات کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں اس منصوبے کا آغاز انتہائی بروقت اقدام ہے۔

یہ منصوبہ آپریشن 'الفارس الشهم 3' کی جانب سے غزہ کی پٹی میں جاری انسانی ہمدردی کی متعدد کاوشوں کا حصہ ہے، جن میں صحت، پانی، ماحولیات، خوراک اور رہائش کے شعبے شامل ہیں۔ اس کا مقصد انسانی ہمدردی کی امدادی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانا، صحت اور ماحولیات کی صورتحال بہتر کرنا اور متاثرہ آبادی کی مشکلات میں کمی لانا ہے۔