ابوظہبی، 23 جولائی، 2026 (وام)-- متحدہ عرب امارات، ہاشمی مملکت اردن، جمہوریہ ترکیہ، عرب جمہوریہ مصر، جمہوریہ انڈونیشیا، اسلامی جمہوریہ پاکستان، مملکت سعودی عرب اور ریاست قطر کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف میں اسرائیل کی حالیہ کشیدگی میں اضافے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کے مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
مشترکہ بیان میں وزرائے خارجہ نے کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی وزرا کی قیادت میں آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، اسرائیلی افواج کی حفاظت میں مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف میں داخلے، احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنے اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات ناقابل قبول ہیں اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے انتہا پسند اسرائیلی وزرا اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی کی ترغیب دینے والی مہمات اور تشدد کے واقعات کی بھی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اشتعال انگیز اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو ہوا دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کی کوششوں میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور وہاں واقع عبادت گاہوں تک رسائی پر عائد پابندیاں، نیز دیگر عبادت گاہوں تک امتیازی اور من مانی رسائی کی قدغنیں، بین الاقوامی قانون، بشمول بین الاقوامی انسانی ہمدردی کے قانون، کی صریح خلاف ورزی ہیں اور تاریخی و قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی غیر قانونی کوششوں کے مترادف ہیں۔
وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی حرمت اور مقام کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ انہوں نے اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے تاریخی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
بیان میں اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ 144 دونم پر مشتمل مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، جبکہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ محکمہ اوقافِ یروشلم و امورِ مسجد اقصیٰ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کو منظم کرنے کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے قابض طاقت کی حیثیت سے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر تک رسائی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے اور مسلمان نمازیوں کی مسجد اقصیٰ تک رسائی میں رکاوٹ ڈالنے سے باز رہے۔
انہوں نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ مضبوط اور واضح مؤقف اختیار کرے تاکہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری خلاف ورزیوں، غیر قانونی اقدامات اور ان مقدس مقامات کی حرمت پامال کرنے سے روکا جا سکے۔