ابوظہبی، 30 جولائی، 2026 (وام) -- وزیر انصاف اور انسدادِ انسانی اسمگلنگ کی قومی کمیٹی کے چیئرمین عبداللہ سلطان بن عواد النعیمی نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے روک تھام، متاثرین کے تحفظ، قانونی کارروائی اور بین الاقوامی تعاون پر مبنی جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے موقع پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کی بنیاد انصاف، انسانیت اور انسانی حقوق کے احترام کی اقدار پر رکھی گئی ہے، جس کے باعث انسانی وقار کا تحفظ ملک کے ترقیاتی وژن کا بنیادی ستون ہے، جبکہ امارات ایک روادار اور کثیرالثقافتی معاشرے کے قیام کے لیے بھی پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات انسانی اسمگلنگ جیسی منظم جرائم کی سنگین ترین اقسام کے خاتمے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے، کیونکہ یہ جرم افراد کے تحفظ اور سلامتی کے بنیادی حق کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ انسانی اسمگلنگ کے مؤثر انسداد اور متاثرین کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تعاون اور قومی سطح پر مربوط کوششیں ناگزیر ہیں۔
عبداللہ سلطان بن عواد النعیمی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے ابتدائی مرحلے ہی میں اس جرم کی سنگینی اور پیچیدگی کو محسوس کرتے ہوئے ایک جامع حکمت عملی اختیار کی، جس کی بنیاد روک تھام، تحفظ، سزا اور قانونی کارروائی پر رکھی گئی، جبکہ بدلتے ہوئے مجرمانہ طریقہ کار کے مطابق بین الاقوامی تعاون کو بھی مسلسل فروغ دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے اور تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے 2007 میں انسدادِ انسانی اسمگلنگ کی قومی کمیٹی قائم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کا سائبر جرائم، مالیاتی فراڈ، منی لانڈرنگ اور بدعنوانی جیسے دیگر منظم جرائم کے ساتھ بڑھتا ہوا تعلق اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ قومی شراکت داریوں کو مسلسل وسعت دی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال کئی نئے ادارے قومی کمیٹی میں شامل ہوئے ہیں، جس کے بعد کمیٹی کے ارکان کی تعداد بڑھ کر 23 ہو گئی ہے، جن میں سرکاری ادارے، استغاثہ کے دفاتر اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں شامل ہیں، تاکہ انسدادِ انسانی اسمگلنگ کے لیے ایک جامع قومی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
وزیر انصاف نے کہا کہ متحدہ عرب امارات نے بدلتے ہوئے مجرمانہ رجحانات اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق اپنے قانونی ڈھانچے کو مسلسل مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک نے 2006 کے وفاقی قانون نمبر (51) کے ذریعے انسانی اسمگلنگ کے جرائم کی روک تھام کے لیے خطے کے اولین خصوصی قوانین میں سے ایک نافذ کیا، جسے بعد ازاں 2023 کے وفاقی فرمانی قانون نمبر (24) کے ذریعے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل جرائم سے نمٹنے کے لیے 2021 کے وفاقی فرمانی قانون نمبر (34) برائے افواہوں اور سائبر جرائم کے انسداد کو بھی نافذ کیا گیا، جبکہ موجودہ قوانین کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ متاثرین کا تحفظ، مجرموں کا احتساب اور فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کے مقدمات کے لیے خصوصی عدالتی بنچ قائم کرکے فوجداری نظام انصاف کو بھی مزید مؤثر بنایا گیا ہے، جس سے مقدمات کے جلد فیصلے اور عدالتی مہارت میں اضافہ ممکن ہوا ہے، جبکہ متاثرین کے تحفظ کو بھی مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔
عبداللہ سلطان بن عواد النعیمی نے کہا کہ متاثرین کو تمام اقدامات کا محور بناتے ہوئے اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے قومی کمیٹی نے اپنے شراکت دار اداروں کے تعاون سے اسمارٹ ریفرل سسٹم (SRS) تیار کیا ہے، جو انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کی معاونت کے لیے ایک متحدہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ تیز ہوتا ہے اور متاثرین کو بروقت نگہداشت اور معاونت کی فراہمی ممکن بنتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس نظام میں ڈیٹا ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے بھی استفادہ کیا جاتا ہے تاکہ مجرمانہ رجحانات کا تجزیہ، ان کے اشاریوں کی نگرانی اور مؤثر پالیسی سازی و احتیاطی اقدامات میں مدد حاصل کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی دن کے موقع پر متحدہ عرب امارات انسانی اسمگلنگ اور انسانی وقار کو نقصان پہنچانے والے ہر قسم کے منظم جرائم کے خلاف اپنے پختہ عزم کا ایک بار پھر اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون اور تجربات کے تبادلے کو فروغ دے تاکہ ایسے جرائم کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے اور لوگوں کو استحصال سے محفوظ رکھا جا سکے۔