لندن، 30 جولائی، 2026 (وام) -- نیشنل میڈیا اتھارٹی کے چیئرمین عبداللہ بن محمد بن بطی الحمید نے کہا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں بچوں اور نوجوانوں کا تحفظ متحدہ عرب امارات کی قیادت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ روشن مستقبل کی بنیاد ایک ایسے محفوظ، قابلِ اعتماد اور ذمہ دار ڈیجیٹل ماحول کی فراہمی سے رکھی جا سکتی ہے، جو سیکھنے، تخلیقی صلاحیتوں اور جدت کو فروغ دے، جبکہ تیز رفتار ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والے خطرات سے آئندہ نسلوں کو محفوظ بھی رکھے۔
لندن میں یورپ کے لیے ٹک ٹاک کی ڈائریکٹر برائے ڈیٹا پبلک پالیسی جیڈ نیسٹر سے ملاقات کے دوران عبداللہ الحمید نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ٹیکنالوجی کے فروغ اور معاشرتی اقدار کے تحفظ کے درمیان متوازن نظام قائم کرنے کے لیے قوانین، پالیسیوں اور اسٹریٹجک شراکت داریوں پر مشتمل جامع فریم ورک تشکیل دے رہا ہے، تاکہ صارفین، خصوصاً بچوں اور نوجوانوں، کو مؤثر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
یہ ملاقات ایسے شراکتی روابط کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ تھی، جن کے ذریعے ڈیجیٹل ماحول میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں سے ہم آہنگ جدید حل تیار کیے جا سکیں اور صارفین کے لیے زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل نظام تشکیل دیا جا سکے۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے بچوں اور نوجوانوں کے لیے آن لائن تحفظ کو مزید مؤثر بنانے، ڈیجیٹل پالیسی اور پلیٹ فارم گورننس کے شعبوں میں تعاون بڑھانے، اور جدید ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔
اس موقع پر عمر کے مطابق موزوں آن لائن تجربات کی فراہمی، ایسے ضابطہ جاتی فریم ورک کی تیاری پر بھی گفتگو ہوئی جو جدت اور صارفین کے تحفظ میں توازن قائم رکھے، ذمہ دارانہ مواد کی نگرانی کو فروغ دے، اور مصنوعی ذہانت کے میڈیا کے شعبے میں کردار کو اخلاقی اور ذمہ دارانہ انداز میں بروئے کار لانے کے امکانات کا جائزہ لے۔
عبداللہ الحمید نے کہا کہ تیزی سے ہونے والی ڈیجیٹل تبدیلی اس بات کی متقاضی ہے کہ ضابطہ ساز ادارے اور عالمی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسا متوازن ماڈل اختیار کریں جو ایک جانب جدت کی حوصلہ افزائی کرے اور دوسری جانب عوامی اعتماد کو مضبوط بنائے۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ میڈیا نظام کی تشکیل کے لیے علم کے تبادلے، پالیسی سازی اور ڈیجیٹل گورننس کے عالمی بہترین تجربات کو اپنانے پر مبنی اسٹریٹجک شراکت داریاں ناگزیر ہیں۔
عبداللہ الحمید نے کہاکہ، "ٹک ٹاک کے ساتھ تعاون کے ذریعے ہم اس مشترکہ وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم مواد تخلیق کرنے والوں کو ڈیجیٹل ذمہ داری کے حوالے سے ضروری مہارتیں فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں تاکہ وہ ایسا مثبت اور بامقصد مواد تیار کریں جو معاشرے کے لیے مفید ثابت ہو۔"
نیشنل میڈیا اتھارٹی کے مطابق اس نوعیت کی ملاقاتوں کا مقصد عالمی سطح کی نمایاں کمپنیوں کے ساتھ شراکت داریوں کو وسعت دینا، محفوظ اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل میڈیا ماحول کو فروغ دینا، عالمی میڈیا منظرنامے میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں سے ہم آہنگ رہنا، اور ضابطہ جاتی و تکنیکی بہترین تجربات کے تبادلے کو فروغ دینا ہے۔