انسانی ہمدردی کی سرگرمیاں متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں، شیخ عبداللہ بن زاید

انسانی ہمدردی کی سرگرمیاں متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں، شیخ عبداللہ بن زاید

ابوظہبی، 19 اگست 2026 (وام) -- نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے کہا ہے کہ انسانی ہمدردی کی سرگرمیاں متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہیں، جس کی عکاسی ضرورت مندوں کو امداد فراہم کرنے اور معاشروں کو زیادہ مستحکم اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے قابل بنانے کے لیے ملک کی کوششوں میں ہوتی ہے۔

انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے بیان میں عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام شہریوں اور امدادی کارکنوں کے تحفظ اور تنازعات و بحرانوں کے دوران انسانی وقار اور زندگی کے تحفظ کے لیے ناگزیر بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات بلاامتیاز دنیا کے کسی بھی حصے میں انسانی ضروریات کا جواب دینے کے اپنے پختہ عزم کے تحت بین الاقوامی شراکت داری کو مزید مضبوط بنا رہا ہے اور کثیرالجہتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کے اثرات کو وسیع اور پائیدار بنانے میں مدد مل رہی ہے۔

عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید نے کہاکہ، ’’انسانی ہمدردی کے عالمی دن کے موقع پر ہمارا یقین ہے کہ انسانیت کے ساتھ یکجہتی اور انسانی وقار و زندگی کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسی یقین کے تحت ہم اس امر کے لیے پُرعزم ہیں کہ ہماری انسانی ہمدردی کی کوششیں جدید اور پائیدار ہوں، جو صرف فوری ضروریات پوری کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ افراد اور معاشروں کو بااختیار بنانے کے ساتھ ترقی اور خوشحالی کی راہیں بھی ہموار کریں۔‘‘

انہوں نے کہاکہ، ’’یہ وہ ذمہ داری ہے جسے ہم نے اپنے کندھوں پر لیا ہے اور جسے پورا کرنے کے لیے ہم مسلسل کام کر رہے ہیں۔ یہ ذمہ داری صرف مشکلات سے دوچار افراد کی مدد تک محدود نہیں بلکہ امید پیدا کرنے اور بہتر مستقبل کی تعمیر تک پھیلی ہوئی ہے، تاکہ متحدہ عرب امارات انسانی بھائی چارے کی علامت اور انسانی ہمدردی کی کوششوں کا روشن مینار بنا رہے۔‘‘