ابوظہبی، 21 اگست 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، اردن، انڈونیشیا، پاکستان، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی مسلسل غیرقانونی آبادکاری کی پالیسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کے مشرق میں مجوزہ ’’ای ون‘‘ منصوبے اور اس سے متعلق تمام آبادکاری سرگرمیوں کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی قابض حکام کی سرپرستی میں آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی عوام اور ان کی املاک کے خلاف تشدد اور دیگر خلاف ورزیوں کی بھی مذمت کی۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کو کسی طور متاثر نہیں کرسکتے۔ یہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہونے کے ساتھ علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
وزرائے خارجہ نے خبردار کیا کہ ’’ای ون‘‘ منصوبہ ایک خطرناک پیش رفت ہے، جو غیرقانونی آبادکاری کی توسیع اور فلسطینی علاقوں کے الحاق کو مزید آگے بڑھائے گا اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں، خصوصاً مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس کے درمیان جغرافیائی تسلسل کو متاثر کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک آزاد، متصل اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو خطرہ لاحق ہے۔
وزرائے خارجہ نے ان اقدامات کو امن کے حصول کی بین الاقوامی کوششوں، بالخصوص صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جامع منصوبے کے لیے براہ راست چیلنج قرار دیا۔ اس منصوبے میں الحاق اور جبری بے دخلی کو واضح طور پر مسترد کیا گیا ہے اور ’’بورڈ آف پیس‘‘ سمیت اس پر عمل درآمد کے لیے مختلف طریقہ کار تجویز کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مغربی کنارے کے الحاق کی اجازت نہ دینے کے صدر ٹرمپ کے پختہ عزم کا بھی ذکر کیا، جس کا مقصد خطے میں استحکام قائم کرنا اور تنازع کا خاتمہ ہے۔
وزرائے خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل ہی منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے حصول کا واحد قابل عمل راستہ ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ دو ریاستی حل کو نقصان پہنچانے والے اقدامات کشیدگی میں مزید اضافے، علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کے امکانات کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے غیرقانونی آبادکاری کی سرگرمیوں، بشمول ’’ای ون‘‘ منصوبے، کے ذمہ دار اداروں اور افراد کے احتساب کے لیے مناسب بین الاقوامی اقدامات اور پابندیوں سمیت تمام کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔
انہوں نے آبادکاری کی توسیع اور الحاق کی پالیسیوں کی حمایت، سہولت کاری یا ان پر عمل درآمد کرنے والے اداروں اور افراد کے خلاف بھی کارروائی پر زور دیا اور مطالبہ کیا کہ غیرقانونی بستیوں کے قیام، توسیع یا انہیں مستقل بنانے میں معاون ہر قسم کی حمایت اور مالی امداد بند کی جائے۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ احتساب نہ ہونے سے خلاف ورزیاں جاری رہتی ہیں اور منصفانہ و جامع امن کے امکانات مزید کمزور ہوتے ہیں۔
انہوں نے ’’ای ون‘‘ منصوبے کو فوری طور پر روکنے، اس سے متعلق کیے گئے تمام اقدامات واپس لینے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی اور آبادیاتی نوعیت تبدیل کرنے کے لیے جاری تمام آبادکاری سرگرمیوں اور دیگر اقدامات کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، تمام ممالک اور متعلقہ بین الاقوامی فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور غیرقانونی آبادکاری کی توسیع روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
انہوں نے فلسطینی عوام کے تحفظ، ان کے ناقابل تنسیخ حقوق، بشمول حق خود ارادیت، کی ضمانت اور بین الاقوامی قانون و اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا ہے۔