متحدہ عرب امارات 2026 میں مربوط لاجسٹکس نظام کے ذریعے سپلائی چین کو مستحکم کر رہا ہے

متحدہ عرب امارات 2026 میں مربوط لاجسٹکس نظام کے ذریعے سپلائی چین کو مستحکم کر رہا ہے

ابوظہبی، 21 اگست 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات 2026 کے دوران بحری، زمینی، فضائی، ریلوے اور فری زون آپریشنز کو ایک مربوط نظام میں یکجا کرتے ہوئے سپلائی چین کے بنیادی ڈھانچے کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے، جس کا مقصد عالمی تجارتی بہاؤ برقرار رکھنا اور ضرورت کے مطابق کارگو کو متبادل راستوں پر منتقل کرنے کی صلاحیت بڑھانا ہے۔

ملک روایتی درآمدی و برآمدی مرکز سے ایک ایسے جامع لاجسٹکس پلیٹ فارم میں تبدیل ہو رہا ہے، جہاں مینوفیکچرنگ اور ذخیرہ کاری کی سہولیات بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور سرحدی گزرگاہوں سے براہ راست منسلک ہیں۔ خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت نے مختلف ذرائع نقل و حمل کے اس باہمی ربط کو مزید تیز کیا ہے۔

شارجہ پورٹس، کسٹمز اینڈ فری زونز اتھارٹی نے عمان کسٹمز کے تعاون سے حال ہی میں ایک لاجسٹکس کوریڈور قائم کیا ہے، جو خورفکان سمیت شارجہ کی ساحلی بندرگاہوں کو عمان کی صحار، الدقم اور صلالہ بندرگاہوں سے منسلک کرتا ہے۔ خورفکان بندرگاہ کی مستقبل کی گنجائش ایک کروڑ کنٹینرز تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

شارجہ میں 16 ملین مربع فٹ سے زائد رقبے پر الذید لاجسٹکس کمپلیکس بھی تیار کیا جا رہا ہے، جس کی ابتدائی گنجائش 1.5 ملین بیس فٹ مساوی کنٹینر یونٹس، ٹی ای یو، ہوگی۔

سرحد پار ریل مال برداری کی صلاحیت میں بھی توسیع ہو رہی ہے۔ حفیّت ریل نے فروری 2025 میں عمان میں ریلوے تنصیبات کے ڈیزائن اور تعمیر کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔

متحدہ عرب امارات کے اندر اتحاد ریل نے 2026 کے دوران تقریباً 1.8 ملین ٹن سلفر، 4 ملین ٹن سے زائد تعمیراتی مواد اور 129,000 کنٹینرز منتقل کیے۔ اس کا مال بردار نیٹ ورک 11 ٹرمینلز کے ذریعے خلیفہ بندرگاہ اور جبل علی سمیت ملک کے بڑے صنعتی مراکز اور بندرگاہوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔

ابوظہبی ایئرپورٹس فری زون کے ذریعے فضائی مال برداری کی گنجائش بھی بڑھائی جا رہی ہے۔ فری زون میں 8.3 ملین مربع میٹر پر محیط الفلاح لاجسٹکس پارک شامل ہے، جبکہ ایسٹ مڈفیلڈ کارگو ٹرمینل 2027 میں مکمل ہونے کے بعد سالانہ 1.5 ملین ٹن کارگو سنبھالنے کی صلاحیت رکھے گا۔

مشرقی ساحل پر فجیرہ ٹرمینلز نے حالیہ علاقائی رکاوٹوں کے دوران 70,000 سے زائد ٹی ای یو اور 100 مال بردار جہازوں کو سنبھالا، جس سے متبادل تجارتی راستے کے طور پر اس کی اہمیت نمایاں ہوئی۔ الرگیلات بندرگاہ اور دبا الفجیرہ میں مجوزہ ترقیاتی منصوبے بھی اس صلاحیت کو مزید وسعت دیں گے۔

دبئی میں دبئی لاجسٹکس کوریڈور جبل علی بندرگاہ اور المکتوم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے درمیان بحری اور فضائی کارگو کی نقل و حرکت کو مربوط کر رہا ہے۔

اسی دوران جبل علی فری زون، جافزا، نے 2026 کے پہلے چار ماہ میں 854 ملین درہم کی نئی سرمایہ کاری راغب کی، جس کے ذریعے مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس، صحت اور خوراک کی تیاری کے شعبوں میں سہولیات کو وسعت دی گئی۔

ڈیجیٹل ٹریکنگ کا بنیادی ڈھانچہ اور محکمہ اقتصادی ترقی ابوظہبی، ایڈڈ، سے منسلک پلیٹ فارمز حقیقی وقت میں کارگو کے راستوں کی تبدیلی اور ہنگامی صورتحال میں مربوط ردعمل کو ممکن بنا رہے ہیں۔ ایڈڈ نے 2026 میں اپنے شراکت دار نیٹ ورک کو 30 سے زائد لاجسٹکس آپریٹرز تک وسعت دی۔

ان آپریشنل صلاحیتوں نے متحدہ عرب امارات کی اقتصادی ترقی میں بھی معاونت کی۔ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں مستقل قیمتوں پر ملک کی حقیقی مجموعی ملکی پیداوار 3 فیصد بڑھ کر 485 ارب درہم ہوگئی، جبکہ پہلی ششماہی میں غیر تیل خارجہ تجارت ریکارڈ 1.937 ٹریلین درہم تک پہنچ گئی۔

مربوط لاجسٹکس نظام بڑی عالمی کمپنیوں کو بھی متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کر رہا ہے۔ صحت کے شعبے کی عالمی کمپنی نوو نورڈسک نے دنیا بھر میں اپنے تین تقسیم مراکز میں سے ایک ملک میں قائم کیا ہے۔

یہ پیش رفت بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، ریلوے، سڑکوں، فری زونز، گوداموں اور ڈیجیٹل نظاموں کے درمیان بڑھتے ہوئے ربط کی عکاسی کرتی ہے۔ کثیر راستوں پر مشتمل یہ نظام کارگو کی رسائی، متبادل راستوں پر منتقلی، ذخیرہ کاری، مینوفیکچرنگ، دوبارہ برآمد اور تقسیم کی صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہا ہے، جس سے سپلائی چین کی طاقت متحدہ عرب امارات کی اقتصادی ترقی کا ایک بنیادی ستون بن گئی ہے۔