امارات میں آثارِ قدیمہ کی نئی دریافتیں، 60 ہزار سالہ انسانی تاریخ کے اہم شواہد سامنے آگئے

امارات میں آثارِ قدیمہ کی نئی دریافتیں، 60 ہزار سالہ انسانی تاریخ کے اہم شواہد سامنے آگئے

ابوظہبی، 23 اگست 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات میں 2026 کے دوران سامنے آنے والی آثارِ قدیمہ کی دریافتوں اور سائنسی مطالعات نے ملک کی انسانی تاریخ، آبادکاری کے رجحانات اور قدیم معاشی زندگی کے نئے پہلو آشکار کیے ہیں، جس سے قبل از تاریخ دور سے کانسی کے زمانے تک خطے کے بارے میں موجود معلومات کو نئی وسعت ملی ہے۔

یہ دریافتیں ملک کے مختلف علاقوں میں جاری آثارِ قدیمہ کے سروے، کھدائی اور تحقیقی سرگرمیوں کا نتیجہ ہیں۔ ان سے یہ سمجھنے میں مدد مل رہی ہے کہ قدیم انسانی آبادیوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے مطابق خود کو کس طرح ڈھالا اور خطے کے دیگر علاقوں کے ساتھ اپنے روابط کیسے برقرار رکھے۔

شارجہ میں ایک بین الاقوامی تحقیقی منصوبے کے دوران جبل البحيص کی چٹانی پناہ گاہ میں طویل وقفوں سے مختلف ادوار میں ابتدائی انسانوں کی بار بار موجودگی کے نئے شواہد ملے ہیں۔ اس دریافت نے خطے میں قدیم انسانی آبادکاری سے متعلق سابقہ تصورات کو نئی جہت دی ہے۔

مارچ 2026 میں سائنسی جریدے ’’نیچر کمیونیکیشنز‘‘ میں شائع ہونے والی تحقیق میں جبل البحيص میں 60 ہزار سے 16 ہزار سال قبل تک انسانی موجودگی کے شواہد دستاویزی شکل میں پیش کیے گئے۔ یہ شواہد شدید موسمی تبدیلیوں اور خشک سالی کے ادوار میں قدیم انسانوں کی موافقت کو سمجھنے کے لیے اہم ریکارڈ فراہم کرتے ہیں۔

جولائی میں محکمہ ثقافت و سیاحت ابوظہبی نے العین کے قطارہ آثارِ قدیمہ قبرستان میں وادی سوق اور کانسی کے آخری دور، تقریباً 2000 سے 1300 قبل مسیح، سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے مقبرے کی دریافت کا اعلان کیا۔

غیرمعمولی طور پر محفوظ اس مقبرے کی تعمیر میں ام النار دور، تقریباً 2700 سے 2000 قبل مسیح، کے قدیم تدفینی ڈھانچوں سے حاصل کیے گئے تراشیدہ پتھروں کو دوبارہ استعمال کیا گیا تھا۔

11 میٹر طویل اور 2.5 میٹر چوڑا یہ اجتماعی مقبرہ کم از کم ایک ہزار سال کے دوران سینکڑوں افراد کی تدفین کے لیے استعمال ہوا۔ کھدائی کے دوران مٹی کے برتن، ہتھیار اور ذاتی آرائش کی اشیا بھی برآمد ہوئیں۔

انسانی باقیات اور دریافت شدہ اشیا کے آئسوٹوپ اور ڈی این اے تجزیے جاری ہیں، جن کے ذریعے قدیم تجارتی روابط، خوراک، صحت اور انسانی نقل مکانی کے راستوں کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جائیں گی۔

قطارہ کی یہ دریافت العین کے ثقافتی مقامات کی تاریخی اہمیت میں مزید اضافہ کرتی ہے، جنہیں 2011 میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

متحدہ عرب امارات کے ثقافتی ورثے کو 2026 میں مزید عالمی پذیرائی اس وقت ملی جب وزارت ثقافت نے پانچ نئے اماراتی مقامات کو اسلامی دنیا کی تعلیمی، سائنسی و ثقافتی تنظیم ’’آئیسیسکو‘‘ کی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیے جانے کا اعلان کیا۔

ان مقامات میں دبئی کا ساروق الحدید اور شارجہ کے چار مقامات شامل ہیں۔ شارجہ کے مقامات میں وسطی خطے کا جبل فایہ، خورفکان کے تاریخی برج اور قلعے، جن میں پرتگالی قلعہ اور العدوانی ٹاور شامل ہیں، جبکہ نحوہ اور وادی الحلو بھی فہرست کا حصہ ہیں۔

وادی الحلو میں کانسی کے دور کے چٹانی نقوش اور قدیم بستیوں کے آثار موجود ہیں، جبکہ نحوہ میں کانسی کے زمانے سے جدید دور تک کے چٹانی فن کے نمونے پائے گئے ہیں، جنہیں سہ جہتی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے دستاویزی شکل دی گئی ہے۔

مزید تحقیق کے لیے جبل فایہ میں ایک نئے سائنسی مرحلے کا آغاز کیا گیا ہے، جسے 2026 سے 2028 تک جاری رہنے والی 20 لاکھ درہم کی تحقیقی گرانٹ کی معاونت حاصل ہے۔

سال 2026 کی یہ پیش رفت آثارِ قدیمہ کی کھدائی، تاریخی مقامات کی بحالی، ڈیجیٹل دستاویز سازی اور بین الاقوامی اندراج پر مبنی متحدہ عرب امارات کی جامع حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے، جس کا مقصد ملک کے بھرپور تاریخی ورثے کو محفوظ کرنا اور اسے عالمی سطح پر متعارف کرانا ہے۔