اماراتی خواتین کا قومی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار، یومِ خواتین کل منایا جائے گا

اماراتی خواتین کا قومی تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار، یومِ خواتین کل منایا جائے گا

ابوظہبی، 27 اگست 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات کل 28 اگست کو یومِ اماراتی خواتین منائے گا، جس کے دوران خواتین کو بااختیار بنانے کے ملک کے طویل سفر اور ان کی نمایاں کامیابیوں کو اجاگر کیا جائے گا۔ اماراتی خواتین قومی تعمیر، مستقبل کی تشکیل اور قیادت، خدمت اور عمدہ اقدار کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔

اس سال یومِ اماراتی خواتین 'ہم مزید مضبوط اور بہتر بن کر ابھرتے ہیں' کے عنوان سے منایا جا رہا ہے، جو حاصل شدہ کامیابیوں کو مزید آگے بڑھانے اور ترقی کے نئے اہداف کے حصول کے لیے متحدہ عرب امارات کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

اس موقع پر ملک بھر میں تقریبات 28 اگست سے 28 ستمبر 2026 تک جاری رہیں گی، جن کے دوران مختلف اقدامات اور پروگرام شروع کیے جائیں گے، نمایاں کامیابیوں کو سراہا جائے گا اور متاثر کن خواتین کی کامیاب مثالوں کو اجاگر کیا جائے گا۔ یہ سرگرمیاں اس حقیقت کی توثیق کرتی ہیں کہ اماراتی خواتین کی کامیابی ملک کی مجموعی ترقی کے سفر کا لازمی حصہ ہے۔

'مادرِ ملت'، جنرل ویمنز یونین کی چیئر وومن، سپریم کونسل برائے زچگی و بچپن کی صدر اور فیملی ڈیولپمنٹ فاؤنڈیشن کی سپریم چیئر وومن عزت مآب شیخہ فاطمہ بنت مبارک اماراتی خواتین کو بااختیار بنانے کے سفر میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔

ان کی کوششوں نے جنرل ویمنز یونین کے قیام کے بعد خواتین کے کام کو ادارہ جاتی شکل دینے اور خواتین، خاندانوں اور معاشرے کی معاونت میں اس کے کردار کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ سفر ایک ایسے وژن کے تحت آگے بڑھا جس میں جدید زندگی کے تقاضوں اور قومی شناخت، عرب اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے درمیان توازن قائم رکھا گیا۔

متحدہ عرب امارات میں خواتین کی منظم سرگرمیوں کا آغاز 1973 میں ملک کی پہلی خواتین تنظیم 'ابوظہبی ویمنز ایسوسی ایشن' کے قیام سے ہوا۔ اس کے بعد مختلف امارات میں خواتین کی تنظیمیں قائم ہوئیں اور 1975 میں جنرل ویمنز یونین وجود میں آئی، جس نے خواتین کے کام کے لیے ایک جامع پلیٹ فارم اور بااختیار بنانے کے مسلسل سفر کی بنیاد فراہم کی۔

اس سفر کو مضبوط قانونی اور ادارہ جاتی نظام کی حمایت حاصل رہی، جس نے خواتین اور مردوں کے لیے مساوی مواقع کے اصول کو مستحکم کیا اور روزگار، تعلیم اور خدمات میں خواتین کے حقوق کو مزید مضبوط بنایا۔ اس پیش رفت کا ایک اہم مرحلہ دونوں صنفوں کے لیے مساوی اجرت کو یقینی بنانے والی قانون سازی تھا۔

اماراتی خواتین آج ریاستی اداروں اور فیصلہ سازی کے مختلف شعبوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ وفاقی قومی کونسل میں خواتین کی نمائندگی 50 فیصد ہے، جبکہ کابینہ میں بھی ان کا نمایاں حصہ ہے۔ سرکاری شعبے میں تقریباً 63 فیصد قائدانہ عہدے خواتین کے پاس ہیں۔

متحدہ عرب امارات عالمی اشاریوں میں بھی نمایاں مقام برقرار رکھے ہوئے ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کی 'گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2025' میں امارات خطے میں پہلے نمبر پر رہا، جبکہ سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں قائم آئی ایم ڈی ورلڈ کمپیٹی ٹیو نس سینٹر کی 2026 کی عالمی مسابقتی درجہ بندی کے مطابق پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی کے اشاریے میں ملک نے دنیا بھر میں دوسرا مقام حاصل کیا۔

اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ خواتین کو بااختیار بنانے کی پالیسیاں عملی نتائج میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ 2021 سے 2025 کے درمیان لیبر مارکیٹ میں خواتین کی شرکت میں 101.92 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ 'نافس' پروگرام سے فائدہ اٹھانے والوں میں خواتین کا تناسب 74 فیصد رہا۔

کاروباری شعبے میں متحدہ عرب امارات میں 25 ہزار سے زیادہ اماراتی کاروباری خواتین سرگرم ہیں، جن کے پاس 50 ہزار سے زیادہ تجارتی لائسنس ہیں۔ 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق ان کی مجموعی سرمایہ کاری 60 ارب درہم سے تجاوز کر چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار اقتصادی سرگرمیوں، نئے مواقع کی تخلیق، کاروباری قیادت اور سرمایہ کاری میں خواتین کے بڑھتے کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔

اماراتی خواتین نے سائنس، ٹیکنالوجی اور مستقبل سے وابستہ شعبوں میں بھی اپنی موجودگی کو وسعت دی ہے۔ اس پیش رفت کو ایسی پالیسیوں، حکمت عملیوں اور اقدامات کی حمایت حاصل ہے جن کا مقصد سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی، مصنوعی ذہانت، اختراع، قابل تجدید توانائی اور خلائی شعبے میں خواتین کی شرکت بڑھانا ہے۔

خلائی شعبے میں متحدہ عرب امارات کے قومی خلائی پروگرام کے تقریباً 50 فیصد ملازمین خواتین ہیں، جبکہ 'امید مشن' کی سائنسی ٹیم میں خواتین کی نمائندگی تقریباً 80 فیصد ہے۔

سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں سے فارغ التحصیل طلبہ میں خواتین کا تناسب 46 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ ملک میں یونیورسٹی سے فارغ التحصیل افراد میں خواتین تقریباً 70 فیصد ہیں۔ یہ اعداد و شمار علمی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ان کی بڑھتی شرکت کو ظاہر کرتے ہیں۔

سائبر سکیورٹی اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں بھی خواتین کی صلاحیتوں کو فروغ دینے اور تزویراتی شعبوں میں ان کی شرکت بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں۔ ان میں 'سائبر پلس انیشی ایٹو فار ویمن اینڈ فیملی' اور 'امپاورنگ ویمن فارمرز' اقدام کے علاوہ مصنوعی ذہانت، پروگرامنگ اور کاروباری مہارتوں سے متعلق تربیتی پروگرام شامل ہیں، جو ڈیجیٹل معیشت اور لیبر مارکیٹ میں آنے والی تبدیلیوں کے لیے خواتین کی تیاری کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔

اماراتی خواتین کو بااختیار بنانے کے سفر میں 'مادرِ ملت 50:50 وژن' کا آغاز بھی اہم پیش رفت ہے، جس کا مقصد مستقبل کے شعبوں میں خواتین کے لیے ایک نمایاں عالمی نمونہ پیش کرنے میں متحدہ عرب امارات کی قیادت کو مضبوط کرنا اور ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور قابل تجدید توانائی میں خواتین کے کردار کو وسعت دینا ہے۔ یہ وژن ملک کی زیادہ مسابقتی اور پائیدار علمی معیشت کی جانب پیش رفت سے ہم آہنگ ہے۔

متحدہ عرب امارات کی کوششیں عالمی سطح پر خواتین کی معاونت تک بھی پھیلی ہوئی ہیں۔ اس ضمن میں 'شیخہ فاطمہ بنت مبارک ویمن، پیس اینڈ سکیورٹی انیشی ایٹو' نمایاں ہے، جس کا مقصد مکالمے اور امن کی ثقافت کے فروغ کے ساتھ سلامتی، استحکام اور ترقی میں خواتین کے کردار کو مضبوط بنانا ہے۔

اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے جنرل ویمنز یونین نے 'مادرِ ملت' شیخہ فاطمہ بنت مبارک کی سرپرستی میں افریقی خواتین کے لیے 'فاطمہ بنت مبارک انیشی ایٹو فار ڈیجیٹل لیڈرشپ' کا آغاز کیا، جو خواتین کو بااختیار بنانے کے قومی تجربے کو عالمی سطح تک وسعت دینے اور ڈیجیٹل معیشت و پائیدار ترقی میں ان کی صلاحیتوں اور شرکت کو بڑھانے کے اماراتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ اقدامات اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ خواتین کی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری اب صرف قومی ترجیح نہیں رہی بلکہ ایک وسیع تر ترقیاتی وژن کا حصہ بن چکی ہے، جس کا مقصد قیادت، سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت، موسمیاتی اقدامات، امن اور سلامتی کے شعبوں میں خواتین کے لیے مواقع بڑھا کر ایسے معاشروں کی تشکیل کرنا ہے جو مستقبل کے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹ سکیں۔