متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کا جی20 اجلاس میں مہنگائی، مانیٹری پالیسی اور مالی فراڈ سے نمٹنے پر زور

متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کا جی20 اجلاس میں مہنگائی، مانیٹری پالیسی اور مالی فراڈ سے نمٹنے پر زور

ابوظہبی، یکم ستمبر 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے جی20 اجلاسوں کے دوران مہنگائی کے بدلتے رجحانات، عالمی اقتصادی تبدیلیوں کے تناظر میں مانیٹری پالیسی کو درپیش چیلنجز، مالی آگاہی کے فروغ اور سرحد پار مالی فراڈ سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیاہے۔

اماراتی مرکزی بینک کے اسسٹنٹ گورنر برائے مانیٹری پالیسی و مالی استحکام ابراہیم عبید الزعابی نے کہا کہ تجارتی اور جغرافیائی سیاسی پیش رفت، مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی، سپلائی چین میں تبدیلیاں اور آبادی سے متعلق رجحانات عالمی معیشت اور مرکزی بینکوں کی پالیسی سازی پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔

انہوں نے عالمی معیشت کو متاثر کرنے والے مختلف جھٹکوں اور ساختی تبدیلیوں کے تناظر میں مہنگائی سے متعلق توقعات اور مرکزی بینکوں کی ابلاغی پالیسیوں کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔

مالی آگاہی اور مالی فراڈ کی روک تھام کے حوالے سے الزعابی نے لوگوں میں مالی شعور بڑھانے اور انہیں درست مالی فیصلے کرنے کے لیے ضروری علم اور مہارت فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ فراڈ کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے صارفین کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو بھی اہم قرار دیا۔

انہوں نے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور رابطہ کاری کو مضبوط بنانے کے ساتھ سرحد پار مالی فراڈ کے خلاف بین الاقوامی تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے امریکا کی 2026 کی جی20 صدارت کے تحت ریاست شمالی کیرولائنا کے شہر ایشویل میں 29 اگست سے یکم ستمبر تک منعقد ہونے والے جی20 کے چوتھے فنانس اینڈ سینٹرل بینک ڈپٹیز اجلاس اور دوسرے وزرائے خزانہ و مرکزی بینک گورنرز اجلاس میں شرکت کی۔

اماراتی وفد کی قیادت ابراہیم عبید الزعابی نے کی، جبکہ وفد میں بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ محمد حسین المرزوقی اور کثیرالجہتی امور کی منیجر مریم عبداللہ الزعابی بھی شامل تھیں۔

یہ شرکت بین الاقوامی اقتصادی و مالیاتی فورمز میں متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک کی مسلسل فعال موجودگی کا حصہ ہے اور عالمی مالیاتی نظام کے استحکام کو مضبوط بنانے اور اس میں جاری تبدیلیوں سے ہم آہنگ رہنے کی کوششوں میں متحدہ عرب امارات کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔