امارات 2030 کے صاف توانائی اہداف کی جانب تیزی سے گامزن، مؤثر اور جدید توانائی نظام پر توجہ

امارات 2030 کے صاف توانائی اہداف کی جانب تیزی سے گامزن، مؤثر اور جدید توانائی نظام پر توجہ

دبئی، 3 ستمبر 2026 (وام) -- وزارت توانائی و انفراسٹرکچر کے انڈر سیکریٹری برائے توانائی و پٹرولیم امور انجینئر شریف العلماء نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات 2030 کے صاف توانائی اہداف کے حصول کی جانب نمایاں پیش رفت کر رہا ہے، جس کے تحت زیادہ صاف، ذہین، مؤثر اور مضبوط توانائی نظام کی تشکیل پر توجہ دی جا رہی ہے۔

انہوں نے 50ویں مڈل ایسٹ انرجی کے دوران 'امارات کے 2030 اہداف: صاف توانائی کے امتزاج میں تیزی' کے عنوان سے منعقدہ نشست میں کہا کہ امارات توانائی کی منتقلی کے لیے متوازن اور عملی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس میں موسمیاتی اہداف کے ساتھ توانائی کا تحفظ، مناسب لاگت، قابل اعتماد فراہمی اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کو یکساں اہمیت حاصل ہے۔

شریف العلماء نے کہا کہ اصل چیلنج محض زیادہ توانائی پیدا کرنا نہیں بلکہ ایسا نظام قائم کرنا ہے جو صاف، مؤثر اور پائیدار ہونے کے ساتھ مستقبل کی اقتصادی ضروریات بھی پوری کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی صنعت، ٹیکنالوجی، نقل و حمل اور اقتصادی خوشحالی کی بنیاد ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹرز، برقی نظاموں کے پھیلاؤ اور صنعتی توسیع سے بجلی کی مانگ بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات شمسی توانائی، براکہ جوہری توانائی پلانٹ، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، بجلی کے گرڈ اور ابھرتی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کے ذریعے اپنے صاف توانائی پورٹ فولیو کو وسعت دے رہا ہے۔

انہوں نے امارات کے 24 گھنٹے قابل تجدید بجلی فراہم کرنے والے منصوبے کا بھی ذکر کیا، جس میں شمسی توانائی کو بڑے پیمانے پر بیٹری ذخیرہ کرنے کے نظام کے ساتھ مربوط کرکے مسلسل صاف بجلی فراہم کی جاتی ہے۔

شریف العلماء مطابق توانائی کی کارکردگی بہتر بنانا ماحولیاتی اور اقتصادی دونوں اعتبار سے اہم ہے، کیونکہ اس سے لاگت میں کمی، بجلی کے گرڈ پر دباؤ کم کرنے، صنعتی پیداوار بہتر بنانے اور اضافی پیداواری صلاحیت میں غیر ضروری سرمایہ کاری سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

انہوں نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے شروع کیے گئے 'گلوبل انرجی ایفیشنسی الائنس' کو بھی اجاگر کیا، جس کا مقصد توانائی کی بچت سے متعلق عالمی وعدوں کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنا ہے۔

یہ اتحاد حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، صنعتی اداروں اور مالیاتی اداروں کو جوڑتا ہے تاکہ دستیاب مواقع کو مطلوبہ مہارت، ٹیکنالوجی اور مالی وسائل کے ذریعے قابل پیمائش اور قابل سرمایہ کاری منصوبوں میں تبدیل کیا جا سکے۔

شریف العلماء نے کہاکہ، "ٹیکنالوجی موجود ہے، سرمایہ موجود ہے اور مانگ بھی موجود ہے، لیکن اکثر ان سب کو جوڑنے والا رابطہ موجود نہیں ہوتا۔"

انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو سازگار پالیسی اور ضابطہ جاتی ماحول فراہم کرنا ہوگا، نجی شعبے کو ٹیکنالوجی اور جدت لانی ہوگی جبکہ مالیاتی اداروں کو بڑے پیمانے پر منصوبوں کے لیے سرمایہ مہیا کرنا ہوگا۔

شریف العلماء نے کہا کہ توانائی کی عالمی منتقلی کے اگلے مرحلے کی کامیابی کا تعین صرف اعلان کردہ اہداف سے نہیں بلکہ مکمل کیے گئے منصوبوں، جدید بنائے گئے نظاموں، مانگ میں کمی اور متحرک کی گئی سرمایہ کاری سے ہوگا۔

انہوں نے صاف توانائی، بنیادی ڈھانچے، توانائی کی کارکردگی اور جدت میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ، "توانائی کا مستقبل ان لوگوں کے ہاتھ میں نہیں ہوگا جو تبدیلی کا انتظار کریں گے، بلکہ اسے وہ لوگ تشکیل دیں گے جو اس کی قیادت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔"