امارات-جرمنی 54 سالہ تعلقات، تجارت 13.56 ارب یورو سے تجاوز

امارات-جرمنی 54 سالہ تعلقات، تجارت 13.56 ارب یورو سے تجاوز

ابوظہبی، 7 ستمبر 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات اور وفاقی جمہوریہ جرمنی کے تعلقات 54 سالہ تعاون کے دوران سیاست، معیشت، سرمایہ کاری، توانائی، صنعت، ٹیکنالوجی، جدت، تعلیم، ثقافت اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں مسلسل وسعت اختیار کرتے ہوئے ایک مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

دونوں ممالک کے تعلقات مکالمے، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں، جبکہ متعدد علاقائی اور بین الاقوامی امور پر ان کے مؤقف میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ان میں علاقائی سلامتی و استحکام، بین الاقوامی جہاز رانی کا تحفظ، ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی مخالفت، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ، نفرت انگیز تقاریر کی مذمت اور بحرانوں کے سیاسی و سفارتی حل کی حمایت شامل ہیں۔

امارات اور جرمنی کے درمیان سفارتی تعلقات 1972 میں قائم ہوئے اور 2004 میں اسٹریٹجک شراکت داری کے اعلان کے ساتھ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئے۔ دونوں ممالک کی قیادت اور اعلیٰ حکام کے باہمی دوروں نے دوطرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر مشاورت اور رابطے کو مضبوط بنانے کے ساتھ تعاون کے نئے شعبے کھولنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اقتصادی اور تجارتی تعلقات اس شراکت داری کے اہم ستونوں میں شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات خلیجی خطے میں جرمنی کا سب سے اہم اقتصادی شراکت دار ہے، جبکہ 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت 13.56 ارب یورو سے تجاوز کر گئی۔ اسی سال متحدہ عرب امارات سے جرمنی کی درآمدات میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

متحدہ عرب امارات میں تقریباً 2,000 جرمن کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جو ملک کو مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا کی منڈیوں تک رسائی کے لیے علاقائی مرکز کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ دوسری جانب اماراتی کاروباری ادارے بھی جرمن منڈی میں اپنی موجودگی اور سرمایہ کاری کو مسلسل بڑھا رہے ہیں۔

جولائی 2025 میں برلن میں جرمنی-امارات بزنس کونسل کا آغاز کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے 150 سے زیادہ کاروباری رہنماؤں اور کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد تجارت و سرمایہ کاری بڑھانا اور دونوں کاروباری برادریوں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔ 2009 میں قائم جرمن اماراتی مشترکہ کونسل برائے صنعت و تجارت میں بھی 500 سے زیادہ جرمن اور اماراتی کمپنیاں شامل ہیں۔

جرمنی میں اماراتی سرمایہ کاری سے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات تجارت سے آگے بڑھ کر طویل مدتی صنعتی شراکت داری کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ دسمبر 2025 میں ایمریٹس گلوبل ایلومینیم نے جرمنی میں اپنے 'EGA Leichtmetall' مرکز کی توسیع کے لیے 17 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جس سے ایلومینیم کی ری سائیکلنگ کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ منصوبے کے تحت 2028 میں پیداوار شروع ہونے کی توقع ہے۔

اسی ماہ ادنوک کی بین الاقوامی توانائی سرمایہ کاری کمپنی 'XRG' نے جرمن کمپنی کوویسٹرو کے ساتھ 14.7 ارب یورو مالیت کی اسٹریٹجک شراکت داری مکمل کی، جس سے جدید صنعتوں میں متحدہ عرب امارات کی سرمایہ کاری مزید مضبوط ہوئی۔

مئی 2026 میں اے ڈی پورٹس گروپ نے جرمن کمپنی 'MBS Logistics' کے حصول کے لیے 30 کروڑ درہم مالیت کا معاہدہ کیا، جس سے گروپ کو وسطی یورپ کے اہم لاجسٹک راستوں تک رسائی اور کثیر ذرائع نقل و حمل کے شعبے میں اپنی موجودگی بڑھانے کا موقع ملاہے۔

توانائی بھی امارات-جرمنی اسٹریٹجک شراکت داری کا اہم شعبہ ہے۔ دونوں ممالک نے 2017 میں اماراتی-جرمن توانائی شراکت داری کا آغاز کیا، جسے 2022 میں موسمیاتی اقدامات تک وسعت دی گئی۔ حالیہ برسوں میں ہائیڈروجن، پائیدار ہوابازی ایندھن، قابل تجدید توانائی، بجلی کے گرڈ کے رابطے، صنعتی کاربن اخراج میں کمی اور توانائی ذخیرہ کرنے کے شعبوں میں تعاون بڑھا ہے۔

جنوری 2026 میں متحدہ عرب امارات نے اماراتی-جرمن توانائی شراکت داری کے اعلیٰ سطحی اسٹیئرنگ گروپ کے 10ویں اجلاس کی میزبانی کی، جس میں سال بھر کے لیے تعاون کی ترجیحات اور اہم شعبوں کا تعین کیا گیا۔

جرمنی کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں ادنوک کا کردار بھی بڑھ رہا ہے۔ جولائی 2025 میں ادنوک گیس نے جرمنی کی 'SEFE' یورپ کے لیے محفوظ توانائی کے ساتھ تقریباً 1.5 ارب درہم مالیت کا تین سالہ معاہدہ کیا، جس کے تحت 7 لاکھ ٹن مائع قدرتی گیس فراہم کی جائے گی۔

فروری 2026 میں ادنوک اور 'RWE' سپلائی اینڈ ٹریڈنگ نے جرمنی اور دیگر یورپی منڈیوں کو سالانہ 10 لاکھ ٹن تک ایل این جی کی فراہمی کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے اسٹریٹجک تعاون کا معاہدہ کیا، جس کی مدت 10 سال تک ہو سکتی ہے۔

صاف توانائی میں بھی تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے۔ مصدر اور اس کے جرمن شراکت دار جرمنی میں بیٹری توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام قائم کرنے کے مواقع کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ سمندر میں ہوا سے بجلی پیدا کرنے اور گرین ہائیڈروجن منصوبوں پر بھی تعاون جاری ہے۔

سائنس اور جدید ٹیکنالوجی میں شراکت داری نے بھی وسعت اختیار کی ہے۔ جون 2025 میں اماراتی وفد نے بائیوٹیکنالوجی، ابھرتی اور جدید ٹیکنالوجیز اور جدت میں تعاون بڑھانے کے لیے جرمنی کا دورہ کیا۔ مئی 2026 میں امارات سائبر سکیورٹی کونسل اور سیمنز نے اہم بنیادی ڈھانچے اور صنعتی شعبوں میں سائبر سکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے، جس میں آپریشنل ٹیکنالوجی سائبر سکیورٹی کے لیے مشترکہ مرکزِ امتیاز قائم کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

تعلیم اور فنی تربیت کے شعبے میں بھی تعاون جاری ہے، جبکہ ابوظہبی، دبئی اور شارجہ میں جرمن اسکول کام کر رہے ہیں۔ مئی 2026 میں شارجہ میں جرمن اماراتی ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کا آغاز کیا گیا، جو کلاس روم تعلیم کو عملی تربیت کے ساتھ جوڑنے والا دوہرا فنی تعلیمی نظام فراہم کرتا ہے۔ ادارے نے آٹوموٹو میکاٹرونکس اور آٹوموٹو سیلز پروگراموں سے آغاز کیا، جن کی اسناد جرمنی میں تسلیم شدہ اور متحدہ عرب امارات میں لیول 4 ڈپلومہ کے مساوی ہیں۔

ثقافت، سیاحت اور ہوابازی بھی دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ گوئٹے انسٹی ٹیوٹ نے 2006 میں ابوظہبی میں کام شروع کیا، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان سفر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

جون 2026 میں ایمریٹس نے ضروری منظوریوں سے مشروط برلن اور شٹٹ گارٹ کے لیے روزانہ پروازیں شروع کرنے کی تیاری کا اعلان کیا، جن پر سالانہ آپریشنل اخراجات 10 کروڑ یورو سے زیادہ ہوں گے۔ اگست 2026 میں ایئر عربیہ نے بھی 16 دسمبر 2026 سے شارجہ اور ڈسلڈورف کے درمیان روزانہ براہ راست پروازیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔