ابوظہبی، 7 ستمبر 2026 (وام) -- وزارت خارجہ اور نیشنل میڈیا اتھارٹی نے پیر کے روز ابوظہبی میں 8 سے 10 دسمبر تک منعقد ہونے والی 2026 اقوام متحدہ آبی کانفرنس کی تیاریوں کے حوالے سے میڈیا بریفنگ کا انعقاد کیا۔ متحدہ عرب امارات جمہوریہ سینیگال کے اشتراک سے کانفرنس کی میزبانی کرے گا، جس میں آبی تحفظ، آبی وسائل کے پائیدار انتظام، صاف پانی اور صفائی کی سہولیات تک سب کی رسائی اور ان شعبوں میں عالمی تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
نیشنل میڈیا اتھارٹی میں منعقدہ بریفنگ کا مقصد کانفرنس کی تیاریوں، اس کے بنیادی اہداف اور آئندہ مرحلے کے لائحہ عمل سے متعلق معلومات فراہم کرنا تھا۔ اس موقع پر قومی اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور میڈیا تعاون کو مزید منظم بنانے پر بھی زور دیا گیا، تاکہ کانفرنس سے متعلق سرگرمیوں، مباحث اور نتائج کی جامع کوریج یقینی بنائی جا سکے۔
بریفنگ میں وزارت خارجہ کے معاون وزیر برائے توانائی و پائیداری امور عبداللہ بلعلاء نے شرکت کی۔ انہوں نے کانفرنس کی میزبانی کے لیے جاری تیاریوں، حالیہ بین الاقوامی رابطوں اور مشاورت کے نتائج، نیز کانفرنس سے قبل آئندہ مرحلے کی ترجیحات پر روشنی ڈالی۔
عبداللہ بلعلاء نے کہا کہ 2026 اقوام متحدہ آبی کانفرنس کا مقصد پانی سے متعلق بین الاقوامی وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے دوران مالی وسائل، جدید ٹیکنالوجی اور جدت کو مربوط انداز میں بروئے کار لانے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا، تاکہ پانی کے شعبے میں ایسے حل تیار کیے جا سکیں جو عملی، پائیدار اور مختلف خطوں میں قابل توسیع ہوں۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور جمہوریہ سینیگال کی مشترکہ میزبانی پانی سے متعلق عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کثیرالجہتی کارروائی اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ ان کے مطابق کانفرنس عالمی برادری کے لیے ایک اہم موقع ہوگی کہ وہ مشترکہ ترجیحات کا تعین کرے، موجودہ وعدوں پر پیش رفت کا جائزہ لے اور آبی وسائل کے پائیدار انتظام کے لیے ٹھوس اقدامات کو آگے بڑھائے۔
انہوں نے بتایا کہ کانفرنس میں حکومتوں، بین الاقوامی تنظیموں، مالیاتی اداروں، نجی شعبے، تعلیمی و تحقیقی اداروں، ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندے شرکت کریں گے۔ شرکا پانی کے انتظام سے متعلق پالیسیوں، مالی اعانت، ٹیکنالوجی، تحقیق، جدت اور مقامی سطح پر قابل عمل منصوبوں پر تبادلہ خیال کریں گے، جبکہ مختلف ممالک اور اداروں کے تجربات اور بہترین طریقہ کار بھی شیئر کیے جائیں گے۔
عبداللہ بلعلاء نے کہا کہ کانفرنس کے ذریعے عالمی سطح پر پانی کے شعبے میں تعاون کو مزید مربوط بنانے، معلومات اور مہارتوں کے تبادلے کو فروغ دینے اور ایسے بین الاقوامی شراکت داری ماڈلز تشکیل دینے کی کوشش کی جائے گی جو طویل مدتی اور قابل پیمائش نتائج فراہم کر سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات عالمی برادری کے ساتھ مسلسل تعاون جاری رکھے گا تاکہ کانفرنس پانی اور موسمیاتی اقدامات کے حوالے سے عملی پیش رفت کا ذریعہ بن سکے۔
انہوں نے کہا کہ پانی کے مسائل کا تعلق صرف بنیادی سہولیات کی فراہمی سے نہیں بلکہ صحت، خوراک، توانائی، معیشت، ماحولیات اور پائیدار ترقی سے بھی ہے۔ اس لیے آبی وسائل سے متعلق پالیسیوں اور منصوبوں میں مختلف شعبوں کے درمیان رابطہ کاری اور مشترکہ منصوبہ بندی ضروری ہے۔
نیشنل میڈیا اتھارٹی کے نائب چیئرمین اور سیکریٹری جنرل محمد سعید الشحی نے کہا کہ میڈیا بریفنگ کا انعقاد کانفرنس کی تیاریوں میں قومی اداروں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری اور قریبی تعاون کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کا مقصد کانفرنس سے متعلق میڈیا اور ابلاغی سرگرمیوں کو مربوط بنانا، صحافتی تیاریوں کو بہتر کرنا اور اس بین الاقوامی ایونٹ کے حجم اور اہمیت کے مطابق جامع کوریج کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل میڈیا اتھارٹی کانفرنس کے دوران اہم معلومات، مباحث اور نتائج کو مقامی اور بین الاقوامی ناظرین تک پہنچانے کے لیے میڈیا کو ضروری معاونت فراہم کرے گی۔ اس سلسلے میں کانفرنس کے موضوعات، شرکا، اجلاسوں اور متوقع نتائج سے متعلق معلومات کی بروقت فراہمی پر توجہ دی جائے گی۔
محمد سعید الشحی کے مطابق پانی سے متعلق چیلنجز کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے میں میڈیا کا کردار اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبی وسائل کے تحفظ، پانی کے ذمہ دارانہ استعمال اور صفائی کی سہولیات تک رسائی کے لیے عوامی، ادارہ جاتی اور بین الاقوامی سطح پر مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق موجودہ بریفنگ کانفرنس تک جاری رہنے والی مربوط میڈیا اور آگاہی مہم کا آغاز ہے۔
2026 اقوام متحدہ آبی کانفرنس کا ایک اہم مقصد پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 6 پر عمل درآمد کو تیز کرنا ہے۔ اس ہدف کے تحت سب کے لیے پانی اور صفائی کی سہولیات کی دستیابی، ان کے پائیدار انتظام اور آبی وسائل کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
کانفرنس میں دنیا بھر میں پانی کے وسائل کو درپیش بڑھتے ہوئے مسائل، جن میں پانی کی قلت، آلودگی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، بنیادی ڈھانچے کی ضروریات اور مالی وسائل تک محدود رسائی شامل ہیں، کا جائزہ لیا جائے گا۔ شرکا ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پالیسی، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی تعاون کے ممکنہ طریقوں پر غور کریں گے۔
ابوظہبی میں ہونے والی کانفرنس مختلف ممالک اور اداروں کے نمائندوں کو ایک مشترکہ فورم فراہم کرے گی، جہاں وہ آبی تحفظ سے متعلق ترجیحات پر تبادلہ خیال، شراکت داریوں کو مضبوط اور پانی کے شعبے میں عملی و پائیدار حل کی تیاری کے لیے تعاون کر سکیں گے۔