برلن، 9 ستمبر، 2026 (وام) -- وفاقی جمہوریہ جرمنی میں متحدہ عرب امارات کے سفیر احمد العطار نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کا جرمنی کا سرکاری دورہ امارات-جرمنی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے، جو دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور اسے نئی سطح تک لے جانے کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور جرمنی نے 1972 سے مسلسل ایسی شراکت داری قائم کی ہے جو ہر گزرتے سال کے ساتھ مضبوط ہوتی گئی۔ 2004 میں اسٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے پر دستخط نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے لیے ایک وسیع فریم ورک قائم کیا، جس کے بعد دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے گئے۔
اقتصادی شعبے میں دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2025 میں غیر تیل تجارت 15.56 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو 2024 کے مقابلے میں 14.6 فیصد زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ امارات اور جرمنی کی شراکت داری صرف تجارت تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی، صاف توانائی، ہائیڈروجن، جدید مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس سمیت مستقبل کی معیشت تشکیل دینے والے شعبوں میں تعاون پر بڑھتی ہوئی توجہ دے رہے ہیں۔
دونوں ممالک کی اقتصادی اور تکنیکی صلاحیتوں کے حوالے سے احمد العطار نے کہا کہ جرمنی صنعتی، تکنیکی اور تحقیقی مہارت رکھتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات جدید سرمایہ کاری نظام، اعلیٰ معیار کے بنیادی ڈھانچے اور ایشیا، یورپ اور افریقہ کو ملانے والے اسٹریٹجک محل وقوع کی بدولت منفرد مواقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی ان صلاحیتوں کا امتزاج نئی سرمایہ کاری اور جدید منصوبوں کے لیے مواقع پیدا کرتا ہے، جبکہ اسٹارٹ اپس، کاروباری افراد اور نوجوان صلاحیتوں کے لیے بھی وسیع امکانات فراہم کرتا ہے۔
صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کے دورے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اماراتی سفیر نے کہا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے اس مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ شراکت داری کو مزید فروغ دیا جائے، تعاون کے مواقع کو عملی منصوبوں اور اقدامات میں تبدیل کیا جائے اور ایسے نئے امکانات پیدا کیے جائیں جو دونوں ممالک اور ان کے عوام کے مفادات کو آگے بڑھائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کے شعبے میں قابل تجدید توانائی، ہائیڈروجن اور ماحولیاتی ٹیکنالوجیز میں تعاون کے امکانات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جو توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے ساتھ زیادہ پائیدار مستقبل کی جانب منتقلی کو بھی تیز کریں گے۔
احمد العطار کے مطابق امارات-جرمنی شراکت داری اب تک حاصل ہونے والی کامیابیوں تک محدود نہیں بلکہ مستقبل میں مزید پیش رفت کے امکانات پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات اعتماد اور باہمی تعاون پر قائم ہیں اور ان کے درمیان ایسا مشترکہ وژن موجود ہے جو دونوں ممالک اور ان کی عوام کے لیے خوشحال اور امید افزا مستقبل کا عکاس ہے۔