صدر شیخ محمد بن زاید کی سرپرستی میں 35واں ابوظہبی بین الاقوامی کتاب میلے کا آغاز

صدر شیخ محمد بن زاید کی سرپرستی میں 35واں ابوظہبی بین الاقوامی کتاب میلے کا آغاز

ابوظہبی، 13 ستمبر، 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زاید النہیان کی سرپرستی میں 35واں ابوظہبی بین الاقوامی کتاب میلہ 2026 آج ایڈنیک سینٹر ابوظہبی میں شروع ہوگیا۔

محکمہ ثقافت و سیاحت ابوظہبی کے ذیلی ادارے ابوظبہی عربی زبان مرکز کے زیرِ اہتمام یہ میلہ 13 سے 18 ستمبر تک چھ روز جاری رہے گا۔ میلے میں 1,500 سے زائد ثقافتی اور علمی سرگرمیاں منعقد ہوں گی، جہاں قارئین، ادیب، تخلیق کار اور دانشور ایک جگہ جمع ہوں گے اور مختلف عمر کے افراد کو کتاب، علم اور تخلیقی دنیا سے جڑنے کے نئے مواقع ملیں گے۔

اس سال جمہوریہ شمالی مقدونیہ کے تعاون سے بلقان کی ثقافت کو مہمانِ اعزاز منتخب کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے مشرق اور مغرب کے سنگم پر واقع اس خطے کی بھرپور تاریخ، ثقافت اور تہذیبی تنوع کو اجاگر کیا جائے گا۔

معروف ماہرِ لسانیات الخلیل بن احمد الفراہیدی کو اس سال کی مرکزی شخصیت قرار دیا گیا ہے، جبکہ ہسپانوی ادیب میگل ڈی سروینٹس کی شہرہ آفاق تصنیف ’’ڈان کیخوتے‘‘ کو ’’کتابِ عالم‘‘ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ یہ انتخاب مختلف ثقافتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں میلے کے کردار کو نمایاں کرتا ہے۔

مطالعے کے شائقین کے لیے شاعری کی راتیں، پوڈکاسٹ فرام ابوظہبی اور دی نیکسٹ چیپٹر جیسے مقبول پروگرام بھی میلے کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ موسیقی اور گلوکاری کی پیشکشیں ہوں گی، جبکہ عبدالحلیم حافظ سمیت ممتاز فنکاروں کے فن اور ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے خصوصی گوشے بھی قائم کیے گئے ہیں۔

’’صفحہ پلٹیں، دنیا پڑھیں‘‘ کے عنوان کے تحت منعقد ہونے والا یہ میلہ ثقافت، ادب اور عربی زبان کے ذریعے مختلف اقوام اور تہذیبوں کے درمیان رابطے اور مکالمے کو فروغ دینے میں ابوظبی کے کردار کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے 2026 کو 'خاندان کا سال' قرار دیے جانے کے تناظر میں اس بار میلے کے پروگراموں میں خاندان کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ مختلف نسلوں کے لیے الگ سرگرمیاں اور جگہیں مختص کی گئی ہیں، جہاں وہ کتاب، عربی زبان اور عرب ورثے سے قریب تر ہو سکیں گے اور مطالعے کو خاندانی زندگی کا مستقل حصہ بنانے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

35ویں ایڈیشن کے ساتھ ابوظہبی بین الاقوامی کتاب میلہ ایک عالمی ثقافتی پلیٹ فارم کے طور پر اپنی حیثیت مزید مضبوط کر رہا ہے، جبکہ اشاعتی شعبے اور ثقافتی و تخلیقی صنعتوں کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

یہ میلہ متحدہ عرب امارات اور ابوظہبی کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس میں علم اور ثقافت کو پائیدار ترقی، تخلیقی معیشت اور سافٹ پاور کے اہم ستون کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ علم کی تخلیق، مستقبل کی تیاری اور مختلف اقوام کے درمیان ثقافتی مکالمے کے فروغ کے لیے بھی ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، جس سے عالمی ثقافتی اور علمی مرکز کے طور پر ابوظہبی کی حیثیت مزید مستحکم ہوتی ہے۔