نئی دہلی، 13 ستمبر، 2026 (وام) -- وزیر خارجہ تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے کہا ہے کہ بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں ابوظہبی کے ولی عہد عزت مآب شیخ خالد بن محمد بن زاید النہیان کی سربراہی میں متحدہ عرب امارات کی شرکت بڑی اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے اور دنیا کے اہم اقتصادی و اسٹریٹجک پلیٹ فارمز میں امارات کے فعال اور مؤثر کردار کی عکاسی کرتی ہے۔
ڈاکٹر الزیودی نے اپنے بیان میں کہا کہ اجلاس میں امارات کی شرکت بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے اور ترقی و امن کی کوششوں کی حمایت کے لیے ملک کے عزم کو اجاگر کرتی ہے۔
تجارتی اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال متحدہ عرب امارات اور برکس ممالک کے درمیان غیر تیل تجارت 312 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئی، جو امارات کی مجموعی غیر تیل تجارت کا 30 فیصد سے زیادہ ہے۔ یہ حجم گزشتہ سال کے مقابلے میں 28.5 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتا ہے۔
برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی اور انتظامات کو سراہتے ہوئے ڈاکٹر الزیودی نے کہا کہ بھارت نے اجلاس کے کامیاب انعقاد کے ساتھ ’’برکس نئی دہلی اعلامیہ‘‘ جاری کرنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا، جو گروپ کی ترجیحات اور مستقبل کے لیے اس کے جامع وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
اجلاس کے ایجنڈے میں اقتصادی، تکنیکی، سماجی، ثقافتی اور سیاسی موضوعات سمیت مختلف شعبوں پر وسیع بحث ہوئی، جس نے رکن ممالک کو باہمی تعاون کے نئے مواقع کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کیا۔
اجلاس کے موقع پر ہونے والی دوطرفہ ملاقاتوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے وزیر خارجہ تجارت نے کہا کہ بڑھتے ہوئے تجارتی اشاریے برکس ممالک کے ساتھ مستقبل میں اقتصادی ترقی کے وسیع امکانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان ممالک کے پاس بڑی منڈیاں، نوجوان آبادی، تیزی سے ترقی کرتی معیشتیں اور مضبوط صنعتی بنیادیں موجود ہیں۔
ٹیکنالوجی اور جدت کو برکس معیشتوں کی ترقی کا اہم محرک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تکنیکی ایپلی کیشنز میں تیز رفتار پیش رفت اور بڑی کمپنیوں کی بڑھتی سرگرمیاں تجربات کے تبادلے اور مستقبل کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے وسیع مواقع پیدا کر رہی ہیں۔
تجارتی تعاون کے حوالے سے ڈاکٹر الزیودی نے کہا کہ متحدہ عرب امارات سربراہی اجلاس میں ہونے والی بات چیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تجارت کو آسان بنانے، آزاد تجارتی معاہدوں کا دائرہ وسیع کرنے اور جامع اقتصادی شراکت داریوں کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات نے برکس میں شمولیت سے پہلے ہی ایسی اقتصادی شراکت داریوں کو وسعت دینا شروع کر دیا تھا، جو معیشت کو متنوع بنانے اور اماراتی نجی شعبے کے لیے نئی منڈیاں کھولنے کی ملک کی اسٹریٹجک حکمت عملی کا حصہ ہے۔
ڈاکٹر الزیودی کے مطابق برکس سربراہی اجلاس میں امارات کی اعلیٰ سطحی شرکت کثیرالجہتی تعاون، بین الاقوامی مکالمے اور شراکت داریوں کو مضبوط بنانے کے اس کے مستقل نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہے، جس کا مقصد ترقیاتی چیلنجز کے عملی حل تلاش کرنا اور عالمی سطح پر پائیدار ترقی و خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔