خلیفہ شاہین المرر کا انتہا پسندی اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف جامع عالمی حکمت عملی پر زور

خلیفہ شاہین المرر کا انتہا پسندی اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف جامع عالمی حکمت عملی پر زور

نیویارک، 20 ستمبر، 2026 (وام) -- وزیر مملکت خلیفہ شاہین المرر نے انتہا پسندی اور نفرت انگیز تقاریر کے مقابلے کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے، جس میں رواداری اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے کے ساتھ مذہبی و سماجی رہنماؤں، خواتین، نوجوانوں، سول سوسائٹی اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مثبت کردار کو مضبوط بنایا جائے۔

انہوں نے یہ بات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں سے قبل منعقدہ 'نفرت انگیز تقاریر کے مقابلے میں بین المذاہب و بین الثقافتی مکالمے اور رواداری کے فروغ سے متعلق عالمی کانفرنس' میں متحدہ عرب امارات کا بیان پیش کرتے ہوئے کہی۔

کانفرنس کا اہتمام مملکت مراکش نے اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد نسل کشی و ذمہ داری تحفظ اور اقوام متحدہ کے اتحادِ تہذیب کے تعاون سے کیا۔

خلیفہ شاہین المرر نے 'رواداری، امن اور سلامتی' کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے امارات کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 200 سے زائد قومیتوں کے افراد رہتے اور کام کرتے ہیں، جہاں ثقافتی تنوع کے احترام کے ساتھ باوقار زندگی، روزگار اور استحکام کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔

اسی تناظر میں انہوں نے رواداری اور بین المذاہب و بین الثقافتی مکالمے کے فروغ کے لیے امارات کے نمایاں قومی و عالمی اقدامات کا ذکر کیا، جن میں انسانی اخوت کی دستاویز، ابراہیمی فیملی ہاؤس کا قیام اور رواداری، امن و سلامتی سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تاریخی قرارداد 2686 کی تیاری میں امارات کا کردار شامل ہے۔ یہ قرارداد 2023 میں متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ میں جاری اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے المرر نے کہا کہ نئے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کی تیاریوں کے دوران رواداری کے فروغ اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف اقدامات کو ادارے کے کام اور قیادت کی ترجیحات کے مرکز میں شامل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کوششوں کو بحرانوں کی روک تھام، خصوصی سیاسی مشنز، امن مشنز اور اقوام متحدہ کے نمائندوں کی ذمہ داریوں کا بنیادی حصہ بنایا جانا ضروری ہے۔

اختتام پر خلیفہ شاہین المرر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ متحدہ عرب امارات ان کوششوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کے لیے کام جاری رکھے گا تاکہ رواداری ایک محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی بنیاد بن سکے۔