ابوظہبی، 22 ستمبر، 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات کل 23 ستمبر کو مملکت سعودی عرب کے 96ویں قومی دن کی تقریبات میں شریک ہوگا، جو دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور تاریخی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
امارات اور سعودی عرب کے تعلقات خلیجی یکجہتی کا اہم ستون ہیں، جو مشترکہ عرب عمل کو مضبوط بنانے کے ساتھ خطے میں استحکام اور خوشحالی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات نے اقتصادی اور تجارتی تعاون کو بھی نئی وسعت دی ہے۔ 2026 کی پہلی ششماہی میں امارات کی سعودی عرب کے ساتھ غیر تیل بیرونی تجارت 107.1 ارب درہم، یعنی 29.2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 17.6 فیصد زیادہ ہے۔
2025 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان غیر تیل تجارت کا مجموعی حجم تقریباً 206.1 ارب درہم، یعنی 56.1 ارب ڈالر رہا۔
سعودی عرب نے 2026 کے دوران ترقیاتی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں متعدد کامیابیاں حاصل کیں، جو سعودی وژن 2030 کے تحت اصلاحات کی تیز رفتار پیش رفت اور مملکت کی علاقائی و عالمی حیثیت میں مسلسل اضافے کی عکاسی کرتی ہیں۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار میں غیر تیل سرگرمیوں کا حصہ 50 فیصد سے تجاوز کر چکا ہے، جو اقتصادی بنیاد کو وسعت دینے اور معیشت کو متنوع بنانے کی کوششوں میں پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔
سیاحت کے شعبے میں بھی مملکت نے اپنی عالمی موجودگی مضبوط کی ہے اور بین الاقوامی کانفرنسوں و تقریبات کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھری ہے، جبکہ 2025 میں سیاحوں کی تعداد 12 کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ گئی۔
سعودی وژن 2030 کے آغاز کے بعد صحت کے شعبے میں خدمات کی رسائی اور معیار میں نمایاں بہتری آئی ہے، جبکہ تعلیمی شعبے نے بھی مقامی اور بین الاقوامی سطح پر پیش رفت جاری رکھی ہے، جس سے متعلقہ عالمی اشاریوں میں مملکت کی پوزیشن مزید بہتر ہوئی ہے۔