نیویارک، 25 ستمبر 2026 (وام) -- نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر جمہوریہ لبنان کے وزیراعظم ڈاکٹر نواف سلام سے ملاقات کی۔
ملاقات میں متحدہ عرب امارات اور لبنان کے درمیان برادرانہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے فروغ اور ان کے عوام کی خوشحالی کے لیے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
فریقین نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل متعدد امور پر بھی بات چیت کی، جبکہ باہمی دلچسپی کے علاقائی معاملات اور تازہ پیش رفت پر نقطہ نظر کا تبادلہ کیا۔
اس موقع پر عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید نے لبنان کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے متحدہ عرب امارات کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے لبنان میں دیرپا سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے لبنانی عوام کی ترقی اور خوشحالی کی امنگوں کو پورا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے لبنان کی حکومت کے تعاون سے حکومتی تجربات کے تبادلے کے پروگرام کے تحت ’دس لاکھ لبنانی اے آئی ماہرین‘ اقدام کے آغاز کا بھی اعلان کیا۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان مضبوط شراکت داری اور حکومتی و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تجربات اور علم کے تبادلے کو مزید وسعت دینے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
اس اقدام کا مقصد ڈیجیٹل صلاحیتوں کو فروغ دینا اور شرکا کو اپنے پیشہ ورانہ اور روزمرہ امور میں مصنوعی ذہانت کے آلات مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کے قابل بنانا ہے۔
پروگرام کے تحت دس لاکھ لبنانی شہریوں کو جنریٹو مصنوعی ذہانت اور پرامپٹ انجینئرنگ سے متعلق بنیادی اور عملی مہارتیں فراہم کی جائیں گی۔ اس میں مصنوعی ذہانت کے نظام کو واضح ہدایات دینے اور درست و مؤثر نتائج حاصل کرنے کے لیے سوالات اور ہدایات کو بہتر انداز میں ترتیب دینے کی تربیت بھی شامل ہوگی۔
پرامپٹ انجینئرنگ مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال کی ایک اہم مہارت ہے، جو افراد اور اداروں کو اے آئی ایپلی کیشنز سے بہتر انداز میں استفادہ کرنے، کام کے طریقہ کار کو مؤثر بنانے اور سرکاری خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے۔
اس اقدام کے ذریعے شرکا کو مصنوعی ذہانت کے آلات استعمال کرتے ہوئے مختلف کام انجام دینے، پیداواری صلاحیت بڑھانے اور درپیش مسائل کے لیے نئے خیالات اور اختراعی حل تیار کرنے کی صلاحیت فراہم کی جائے گی۔
یہ اقدام حکومتی تجربات کے تبادلے کے پروگرام کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد متحدہ عرب امارات کے تجربات اور مہارتوں کا تبادلہ کرنا اور شراکت دار حکومتوں کے ساتھ ایسی عملی شراکت داریاں قائم کرنا ہے جو ادارہ جاتی اور انسانی صلاحیتوں کے فروغ میں معاون ہوں۔
یہ جامع اقدام لبنانی معاشرے کے تمام طبقات کے لیے ہے، جس کے ذریعے مختلف عمر، پس منظر اور شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو مصنوعی ذہانت اور پرامپٹ انجینئرنگ کی عملی مہارتیں حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔
اس وسیع تر شمولیت کا مقصد زیادہ سے زیادہ افراد کو پروگرام سے مستفید کرنا، ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے معاشرے کی تیاری کو مضبوط بنانا اور مصنوعی ذہانت کو ترقی اور اختراع کے مؤثر ذریعہ کے طور پر فروغ دینا ہے۔
اس اقدام کا آغاز دونوں ممالک کے درمیان علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے، مستقبل کی مہارتوں میں سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادے کے مواقع بڑھانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے، تاکہ لبنانی معاشرے کی امنگوں اور حکومتی ترقی کے اہداف کی حمایت کی جاسکے۔
ملاقات میں وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم بنت ابراہیم الہاشمی، وزیر مملکت سعید مبارک الہاجری، وزیر مملکت خلیفہ شاہین المرر اور نائب وزیر مملکت شیخ نہیان بن سیف النہیان نے بھی شرکت کی۔