نیویارک، 27 ستمبر 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر یوتھ ڈائیلاگ کا انعقاد کیا، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان نے شرکت کی۔
وزارت خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے لیے متحدہ عرب امارات کے مستقل مشن میں اس مکالمے کا اہتمام کیا، جس میں 10 ممالک سے 52 نوجوان نمائندوں نے شرکت کی۔ ان ممالک میں مملکت بحرین، جمہوریہ لبنان، امریکہ، عوامی جمہوریہ چین، جمہوریہ بھارت، جمہوریہ گیمبیا، برطانیہ، کینیڈا، دولت مشترکہ آسٹریلیا اور متحدہ میکسیکن ریاستیں شامل تھیں۔
امریکہ میں زیر تعلیم اماراتی نوجوانوں نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ شرکا نے نوجوانوں کو درپیش اہم چیلنجز اور دستیاب مواقع کے ساتھ ساتھ موجودہ عالمی مسائل کے حل میں ان کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔
مکالمے میں نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق مختلف موضوعات زیر بحث آئے، جن میں تنازعات کے اثرات، موسمیاتی تبدیلی، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت میں تیز رفتار پیش رفت، تعلیم اور روزگار کے مواقع، اور زیادہ محفوظ و پائیدار معاشروں کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار شامل تھا۔
عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید نے یوتھ ڈائیلاگ کے شرکا کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان صرف مستقبل کے رہنما ہی نہیں بلکہ حال کی تشکیل میں بھی اہم شراکت دار ہیں، اس لیے ان کی برادریوں اور دنیا کو درپیش چیلنجز سے متعلق بحث اور فیصلہ سازی میں ان کی آواز کو شامل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے نوجوانوں کو اپنے خیالات اور تصورات کے اظہار کے لیے مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنے اور ان کی خواہشات کو براہ راست سننے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان تخلیقی صلاحیتوں اور قابلیت سے بھرپور ہیں اور معاشروں کو درپیش مسائل کے عملی حل تیار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
عزت مآب شیخ عبداللہ بن زاید نے مزید کہا کہ نوجوانوں کی شمولیت صرف ان کی آرا سننے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ انہیں حل تیار کرنے اور موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے شراکت داریاں قائم کرنے کے قابل بنانا بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ کار بین الاقوامی کوششوں کی مؤثریت بڑھاتا ہے اور انہیں آنے والی نسلوں کی امنگوں سے ہم آہنگ کرنے میں مدد دیتا ہے۔
تقریب کے دوران ایک پینل مباحثہ بھی منعقد ہوا، جس میں وزیر مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم بنت ابراہیم الہاشمی اور معاون وزیر خارجہ برائے جدید سائنس و ٹیکنالوجی عمران شرف نے شرکت کی۔ مباحثے کی نظامت وزارت خارجہ کے شعبہ اسٹریٹجک کمیونیکیشنز کی ڈائریکٹر افرا مہاش الہاملی نے کی۔
ریم الہاشمی نے کہا کہ نوجوان صرف مستقبل کی قیادت ہی نہیں بلکہ آج بھی کاروباری سرگرمیوں، اختراع، بحران سے متاثرہ برادریوں کی مدد اور مختلف فریقوں کو قریب لانے کے ذریعے معاشروں کو درپیش چیلنجز کے حل میں عملی کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوانوں کی شمولیت کو محض ان کی رائے سننے تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں فیصلہ سازی، شراکت داری اور وسائل کی تقسیم کے عمل میں بامعنی طور پر شامل کیا جانا چاہیے، تاکہ وہ حل کی تشکیل اور موجودہ چیلنجز سے نمٹنے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
عمران شرف نے تیزی سے ہونے والی سائنسی اور تکنیکی پیش رفت سے متاثر مستقبل کی تشکیل میں نوجوانوں کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیز نوجوانوں کے لیے کام، تعلیم اور اختراع کے نئے طریقے وضع کرنے کے نمایاں مواقع پیدا کر رہی ہیں۔
انہوں نے نوجوانوں کو ایسے آلات، مہارتوں اور علم سے آراستہ کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، جن کی مدد سے وہ ان ٹیکنالوجیز کو عملی فوائد میں تبدیل کر سکیں۔
یوتھ ڈائیلاگ کا انعقاد مسلسل دوسرے سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر کیا گیا۔ یہ اقدام نوجوانوں کو بااختیار بنانے، ان کی آرا سننے، عالمی امور سے متعلق مکالمے میں ان کی شرکت بڑھانے اور انہیں فیصلہ سازوں کے سامنے اپنے خیالات اور خواہشات پیش کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے متحدہ عرب امارات کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ مکالمہ کثیرالجہتی تعاون میں نوجوانوں کی شرکت کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف نسلوں کے درمیان براہ راست مکالمے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنے کے اماراتی عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے، تاکہ عالمی ترجیحات کی تشکیل میں نوجوانوں کے نقطہ نظر اور امنگوں کو مناسب جگہ مل سکے۔