امارات میں خودکار گاڑیوں، ایئر ٹیکسی اور برقی ٹرانسپورٹ کا دائرہ تیزی سے وسیع

امارات میں خودکار گاڑیوں، ایئر ٹیکسی اور برقی ٹرانسپورٹ کا دائرہ تیزی سے وسیع

ابوظہبی، 28 ستمبر، 2026 (وام) -- متحدہ عرب امارات اسمارٹ اور پائیدار ٹرانسپورٹ کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں خودکار گاڑیوں کے استعمال، ایئر ٹیکسی کے منصوبوں اور برقی گاڑیوں کے بنیادی ڈھانچے میں مسلسل پیش رفت ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ قوانین، آزمائشی مراکز اور حفاظتی نظام بھی تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ نئی ٹیکنالوجیز کو محفوظ انداز میں عملی استعمال میں لایا جا سکے۔

دبئی اس شعبے میں نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔ روبوٹیکسی سروس آغاز سے اگست تک 40 لاکھ کلومیٹر سے زیادہ سفر کر چکی ہے اور 7,613 مسافر سفر مکمل کیے گئے ہیں۔ 144 گاڑیوں پر مشتمل بیڑے میں 48 گاڑیاں اس وقت فعال ہیں، جو روزانہ تقریباً 50 سفر کرتی ہیں۔ صارفین کے اطمینان کی شرح 97 فیصد ہے۔

خودکار گاڑیوں کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دبئی میں بیدو اپولو گو آٹونومس وہیکلز آپریشنز اینڈ کنٹرول سینٹر بھی قائم کیا گیا ہے۔ 2,000 مربع میٹر پر محیط اس مرکز میں گاڑیوں کی نگرانی، مرمت، چارجنگ، سافٹ ویئر اپ ڈیٹس، حفاظتی ٹیسٹنگ، تربیت اور سیمولیشن کی سہولیات موجود ہیں۔

ابوظہبی میں بھی خودکار گاڑیوں کا شعبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ 2021 میں یاس آئی لینڈ پر TXAI خودکار ٹیکسی سروس کی آزمائش شروع کی گئی، جس کے بعد خدمات کا دائرہ مزید وسیع کیا گیا۔

2025 میں خودکار ڈلیوری گاڑیوں کے لیے آزمائشی پروگرام شروع کیا گیا، جبکہ ابوظہبی آٹونومس وہیکل ٹیسٹ ہب کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا۔ اس مرکز میں سیمولیشن، ڈیجیٹل ٹوئن ٹیکنالوجی، سینسرز اور حقیقی وقت کے ڈیٹا کی مدد سے خودکار گاڑیوں اور اسمارٹ ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجیز کی جانچ کی جائے گی۔

جولائی 2026 میں ابوظہبی موبیلٹی نے آزمائشی اور تجارتی خودکار گاڑیوں کے لیے پہلی بار مخصوص نمبر پلیٹس بھی متعارف کرائیں۔ ’’ٹیسٹ‘‘ اور ’’آٹو ڈرائیو‘‘ نامی یہ پلیٹس ایسی گاڑیوں کی آسان شناخت اور نگرانی میں مدد دیں گی۔

راس الخیمہ نے بھی 2026 کے قانون نمبر 1 کے تحت خودکار گاڑیوں کے لیے باقاعدہ ضابطہ متعارف کرایا ہے۔ راس الخیمہ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے گاڑیوں کی جانچ کے لیے ایک خصوصی آزمائشی اور سیمولیشن نظام تیار کیا ہے، جہاں حفاظت اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد عملی تجربات کیے جائیں گے۔

فضائی نقل و حرکت کے شعبے میں دبئی ایئر ٹیکسی منصوبے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے۔ شہر میں برقی عمودی ٹیک آف اور لینڈنگ طیاروں ای وی ٹی او ایل کی آزمائش کے ساتھ خصوصی ورٹی پورٹس کا نیٹ ورک بھی تیار کیا جا رہا ہے۔

جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی جی سی اے اے اور اسکائی پورٹس انفراسٹرکچر کے مطابق 'VDX' دنیا کا پہلا خصوصی تجارتی ورٹی پورٹ بن گیا ہے جسے ای وی ٹی او ایل طیاروں کے آپریشن کے لیے ضابطہ جاتی منظوری حاصل ہوئی ہے۔ یہ پیش رفت دبئی میں مستقبل میں ایئر ٹیکسی سروس شروع کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔

'VDX' دبئی کے مجوزہ ایئر ٹیکسی نیٹ ورک کا مرکزی مرکز ہوگا، جبکہ مزید تین ورٹی پورٹس بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔ چار منزلہ یہ مرکز تقریباً 3,100 مربع میٹر پر محیط ہے اور اس میں ٹیک آف اور لینڈنگ کے دو مخصوص مقامات، برقی طیاروں کے لیے تیز رفتار چارجنگ اور مسافروں کے لیے جدید سہولیات شامل ہیں۔ تجارتی آپریشن شروع ہونے کے بعد یہاں سالانہ 170,000 مسافروں کو خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔

راس الخیمہ میں بھی جدید فضائی نقل و حرکت کے فروغ کے لیے راس الخیمہ ٹرانسپورٹ اتھارٹی، محکمہ شہری ہوا بازی اور چینی کمپنی 'Aridge' کے درمیان تعاون کا معاہدہ کیا گیا ہے۔

یہ معاہدہ 'XPeng Aeroht' کے ساتھ سابقہ تعاون کو آگے بڑھاتا ہے، جس کے تحت 2025 میں راس الخیمہ میں فلائنگ وہیکل کی پہلی آزمائشی پرواز کی گئی تھی۔ نئی شراکت داری کے تحت مزید جدید آزمائشیں اور عملی تجربات کیے جائیں گے۔

برقی گاڑیوں کے شعبے میں بھی امارات نمایاں مقام رکھتا ہے۔ آرتھر ڈی لٹل کے گلوبل الیکٹرک موبیلٹی ریڈینس انڈیکس 'GEMRIX 2026' کے مطابق متحدہ عرب امارات خلیجی ممالک میں پہلے اور عالمی سطح پر 22ویں نمبر پر رہا، جبکہ اس کا اسکور 53 تھا۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں ملک میں فروخت ہونے والی نئی گاڑیوں میں برقی گاڑیوں کا حصہ تقریباً 9 فیصد تھا۔ مکمل برقی گاڑیوں کا حصہ 6 سے 8 فیصد جبکہ پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں کا حصہ تقریباً 2.5 فیصد رہا۔

امارات میں برقی گاڑیوں کے لیے چارجنگ پوائنٹس کی تعداد بھی بڑھ کر تقریباً 2,800 ہو چکی ہے، جن میں 1,250 ڈائریکٹ کرنٹ چارجنگ پوائنٹس اور 350 تیز رفتار چارجنگ یونٹس شامل ہیں۔

متحدہ عرب امارات کا ہدف ہے کہ 2050 تک ملک کی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں میں برقی اور ہائبرڈ گاڑیوں کا حصہ 50 فیصد تک پہنچ جائے۔

یہ تمام اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ امارات خودکار گاڑیوں، ایئر ٹیکسی اور برقی ٹرانسپورٹ کو قوانین، آزمائشی نظام اور جدید بنیادی ڈھانچے کے ساتھ آگے بڑھا رہا ہے تاکہ مستقبل کی نقل و حرکت کو محفوظ، پائیدار اور مؤثر بنایا جا سکے۔